اکوڑہ خٹک سے موصولہ اطلاعات کے مطابق معروف ماہر تعلیم اور جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے اہم رکن پروفیسر محمود الحق حقانی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔ وہ شیخ الحدیث مولانا عبد الحق کے فرزند اور مولانا سمیع الحق کے چھوٹے بھائی تھے۔
مرحوم کی وفات کی خبر ان کے اہل خانہ کی جانب سے تصدیق کی گئی، جس کے بعد علمی اور دینی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پروفیسر محمود الحق حقانی کی عمر 87 برس تھی اور وہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک علمی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔
پروفیسر محمود الحق حقانی کی نماز جنازہ آج بروز ہفتہ 24 اکتوبر کو صبح 11 بجے جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے احاطے میں ادا کی جائے گی۔ اس موقع پر ملک بھر سے دینی و سیاسی شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔
مرحوم نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک بڑا حصہ شعبہ تدریس کے لیے وقف کر رکھا تھا۔ وہ اسلامیہ کالج پشاور میں شعبہ کیمسٹری کے مایہ ناز اساتذہ میں شمار ہوتے تھے، جہاں انہوں نے ہزاروں طلبہ کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا۔
تعلیمی خدمات کے اعتراف میں انہیں مختلف اہم ذمہ داریاں بھی سونپی گئیں۔ انہوں نے سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے میں ایجوکیشنل کونسلر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں، جہاں انہوں نے پاکستانی طلبہ کے تعلیمی مسائل کے حل کے لیے گراں قدر کردار ادا کیا۔
پروفیسر محمود الحق حقانی کے پسماندگان میں تین صاحبزادے شامل ہیں، جن میں پی سی ایس آفیسر سفیان حقانی، نیورو سرجن ڈاکٹر عثمان حقانی اور حافظ ارسلان حقانی شامل ہیں۔ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا جلد پر ہونا مشکل ہے۔
جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم مولانا انور الحق کے برادر کبیر ہونے کے ناطے، وہ دینی حلقوں میں بھی انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کی علمی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کے شاگرد انہیں ایک شفیق استاد کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
مرحوم کے انتقال پر جمعیت علماء اسلام (س) کے امیر مولانا عبد الحق ثانی اور دیگر دینی رہنماؤں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔
پروفیسر محمود الحق حقانی کا شمار ان اساتذہ میں ہوتا تھا جو جدید سائنسی علوم اور دینی اقدار کے حسین امتزاج کے قائل تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ طلبہ کی اخلاقی تربیت پر زور دیا اور ایک مثالی استاد کا کردار ادا کیا۔
ان کی تدریسی خدمات کا دائرہ کار صرف پشاور تک محدود نہیں رہا بلکہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا نام روشن کیا۔ سفارتی خدمات کے دوران انہوں نے تعلیمی تعلقات کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
نماز جنازہ کے انتظامات کے حوالے سے جامعہ دارالعلوم حقانیہ کی انتظامیہ نے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ اکوڑہ خٹک میں آج سوگ کی فضا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ ان کے گھر تعزیت کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
پروفیسر محمود الحق حقانی کی وفات سے ایک عہد کا خاتمہ ہوا ہے۔ ان کی علمی و ادبی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ رہیں گی اور ان کے شاگردوں کی بڑی تعداد ان کے لیے صدقہ جاریہ ثابت ہوگی۔
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو اس صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت دے۔ آمین۔





اپنی رائے دیں