راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے دلچسپ ٹرائی سیریز کے میچ میں پاکستان نے حریف انگلینڈ کی ٹیم کو شکست دے کر ایونٹ میں اپنی دوسری فتح مکمل کی۔ گرین شرٹس نے اس میچ میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شائقین کرکٹ کے دل جیت لیے اور فتح کا تسلسل برقرار رکھا۔
میچ کے آغاز پر انگلینڈ کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے پاکستان کو بیٹنگ کرنے کی دعوت دی تاکہ ہدف کا تعاقب کیا جا سکے۔ قومی ٹیم نے مقررہ اوورز کے اختتام پر نو وکٹوں کے نقصان پر تین سو دو رنز کا ایک بڑا مجموعہ اسکور بورڈ پر سجایا۔
پاکستان کی جانب سے بیٹنگ کرتے ہوئے مڈل آرڈر بیٹر حسن نواز نے ذمہ دارانہ اور شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور ننانوے گیندوں پر اناسی رنز کی نمایاں اننگز کھیلی۔ ان کی اس اننگز میں ذمہ داری اور جارحانہ انداز دونوں کا بہترین امتزاج دیکھنے کو ملا۔
حسن نواز کے علاوہ ہارڈ ہٹر عرفات منہاس نے بھی بلے بازی میں جوہر دکھاتے ہوئے انسٹھ رنز کی قیمتی اننگز کھیلی اور ٹیم کے مجموعی اسکور میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مشکل وقت میں کریز پر کھڑے ہو کر ٹیم کو سنبھالا دیا۔
تجربہ کار بیٹر بابراعظم نے باون گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے چونتیس رنز بنائے جبکہ وکٹ کیپر بیٹر سعد بیگ نے پینتیس اور فہیم نے انتالیس رنز کا حصہ ڈالا۔ اوپنر صائم ایوب اس بار بھی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے اور صرف آٹھ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔
انگلینڈ کی جانب سے بولنگ کرتے ہوئے سونی بیکر نے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ گس ایٹکنسن نے دو وکٹیں حاصل کیں اور پاکستانی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے سے روکے رکھا۔ انگلش بولرز نے ابتدائی اوورز میں کچھ کامیابی حاصل کی لیکن بعد میں ردہم کھو بیٹھے۔
جواب میں انگلینڈ کی پوری ٹیم مطلوبہ ہدف کے تعاقب میں دو سو پندرہ رنز پر ڈھیر ہو گئی اور پاکستان نے میچ باآسانی اپنے نام کر لیا۔ پاکستانی بولرز کے سامنے انگلش بلے باز بے بس دکھائی دیے اور بڑی شراکت قائم کرنے میں ناکام رہے۔
انگلینڈ کی طرف سے ٹام بینٹن ستاون رنز بنا کر نمایاں اسکورر رہے جبکہ بین ڈکٹ نے پینتالیس اور تجربہ کار جو روٹ نے چونتیس رنز بنائے۔ سیم کرن تیئیس رنز بنانے میں کامیاب رہے لیکن ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے۔
پاکستان کی کامیابی میں بائیں ہاتھ کے اسپنر عرفات منہاس کی تباہ کن بولنگ نے کلیدی کردار ادا کیا جنہوں نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے صرف چالیس رنز کے عوض انگلینڈ کے چھ کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔
عرفات منہاس کی اس گھماؤ دار اور نپی تلی بولنگ نے انگلش بیٹنگ لائن کی کمر توڑ دی اور وہ سنبھل نہ سکے۔ اسپنر نے اپنی جادوئی گیندوں سے بیٹرز کو کھل کر کھیلنے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا۔
فاسٹ بولر حارث رؤف نے بھی عمدہ بولنگ کرتے ہوئے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ تجربہ کار نسیم شاہ کے حصے میں ایک وکٹ آئی۔ قومی پیس بیٹری نے بھی مڈل اور لوئر آرڈر کو جلدی سمیٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔
واضح رہے کہ پاکستان ہوم گراؤنڈ پر اکیس سال طویل عرصے کے بعد انگلینڈ کے خلاف کوئی ایک روزہ میچ کھیل رہا ہے جو کہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اس ٹرائی سیریز کے پہلے میچ میں بھی پاکستان نے سری لنکا کی ٹیم کو شکست دی تھی۔
میچ کے اختتام پر کھلاڑیوں اور شائقین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور راولپنڈی کے میدان میں پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجتے رہے۔ قومی ٹیم کی اس متوازن کارکردگی سے سیریز کے آئندہ میچز کے لیے امیدیں مزید روشن ہو گئی ہیں۔





اپنی رائے دیں