پاکستان میں موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر کاروباری برادری کو درپیش چیلنجز پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ کینیڈا بزنس کمیونٹی کے صدر الحاج میاں شاہد حسین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملکی تاجر طبقہ اس وقت انتہائی کٹھن حالات سے گزر رہا ہے۔
میاں شاہد حسین کے مطابق مہنگائی کی بلند شرح، شرح سود میں اضافہ اور بجلی کے بھاری بھرکم بلوں نے ملکی صنعت و تجارت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان عوامل کے باعث کاروبار کو جاری رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیداواری لاگت میں دو سو فیصد تک کا غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے چھوٹے تاجروں کے لیے اپنے اخراجات پورے کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ تاجروں کے لیے بجلی کے بلوں کی ادائیگی اور دکانوں کے کرائے ادا کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔
کاروباری شخصیت نے ایف بی آر کے پیچیدہ ٹیکس نظام پر بھی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئے روز نئے ٹیکسز کے نفاذ سے تاجر برادری میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے بجائے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
میاں شاہد حسین نے اس بات پر زور دیا کہ مہنگائی کی وجہ سے عوام کی قوت خرید میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں مارکیٹوں میں گاہکوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، جس سے کاروباری منڈیاں مندی کا شکار ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کاروباری برادری کے لیے آسان اور سازگار پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی کے بلوں پر خصوصی سبسڈی فراہم کی جائے تاکہ پیداواری لاگت کو کم کیا جا سکے اور معیشت کا پہیہ دوبارہ رواں ہو سکے۔
میاں شاہد حسین نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو معاشی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے کاروبار دوست ماحول پیدا ہو اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
واضح رہے کہ ملک میں جاری معاشی اصلاحات کے باوجود تاجر برادری کی جانب سے ٹیکسوں کے بوجھ اور توانائی کی قیمتوں پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ تاجروں کا مطالبہ ہے کہ معاشی استحکام کے لیے ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔
ماہرین معاشیات کا بھی ماننا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان شعبوں کی ترقی کے بغیر پائیدار معاشی نمو کا حصول ممکن نہیں ہے، جس کے لیے حکومتی تعاون ناگزیر ہے۔
حکومت کی جانب سے اکثر یہ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ معاشی استحکام کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں تاہم تاجر برادری کا مطالبہ ہے کہ ان فیصلوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ریلیف پیکجز کا اعلان کیا جائے۔
ملک بھر کی تجارتی تنظیمیں وقتاً فوقتاً اپنے مطالبات کے حق میں آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ ٹیکس دہندگان کو سہولیات فراہم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
مستقبل کے حوالے سے تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر حالات اسی طرح رہے تو نیا کاروبار شروع کرنا کسی بھی سرمایہ کار کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے طویل مدتی معاشی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔
امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ حکومت کاروباری طبقے کے ان خدشات کا نوٹس لے گی اور معاشی بہتری کے لیے تاجر برادری کے ساتھ مل کر مشاورت کے ذریعے لائحہ عمل تیار کرے گی تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔





اپنی رائے دیں