ترجمان پاک فوج اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے ایک انٹرویو کے دوران حرمین شریفین کے تقدس اور تحفظ کے حوالے سے پاکستان کا دوٹوک مؤقف دہرایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کا پیغام پہلے ہی ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے پوری دنیا کے سامنے آچکا ہے۔ سعودی عرب میں مقدس مقامات پر کسی بھی قسم کے حملے کے حوالے سے پاکستانی عوام اور قیادت میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور بالخصوص حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور قومی ترجیحات میں سرِفہرست ہے۔ پاکستان ان مقدس مقامات کی حفاظت کو اپنے لیے ایک مقدس فریضہ سمجھتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ خطے میں جاری فوجی تنازعات کو مزید بڑھانا کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تنازعات کے اتار چڑھاؤ سے کسی کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ بحرانوں کا حل صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ مذاکراتی عمل میں ناکامی اور فوجی تصادم کی صورت میں 'مکہ الائنس' کا اجتماعی ڈیٹرنس یقیناً حرکت میں آئے گا، جس سے خطے میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے وضاحت کی کہ مکہ الائنس کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں ہے۔ اس اتحاد کی قیادت اور لائحہ عمل انتہائی واضح ہے، جس کا بنیادی مقصد خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ سمیت اتحاد میں شامل ممالک اپنے عوام اور پورے خطے میں خوشحالی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان ممالک کی کوشش ہے کہ خطے کو جنگی جنون سے بچا کر ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے زور دیا کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑنے کے بجائے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ تنازعات کو کسی بھی سطح پر بڑھانے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا، اس لیے دانشمندی کا تقاضا ہے کہ معاملات کو سفارتی سطح پر حل کیا جائے۔
پاکستان کا یہ مؤقف تاریخی طور پر بھی مستحکم رہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات انتہائی گہرے اور برادرانہ ہیں۔ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پاکستان ہر ممکن تعاون اور مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔
عالمی سطح پر بھی پاکستان نے ہمیشہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی یہ خواہش ہے کہ تمام مسلم ممالک باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں تاکہ امتِ مسلمہ کے وقار کو بلند کیا جا سکے۔
موجودہ دور میں جب خطہ مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، پاکستان کی جانب سے یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ بیان نہ صرف پاکستان کے اپنے عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے بلکہ عالمی برادری کو بھی ایک واضح پیغام دیتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے اس بیان نے ان تمام قیاس آرائیوں کو بھی ختم کر دیا ہے جو مختلف حلقوں میں گردش کر رہی تھیں۔ پاکستان کا عسکری ادارہ اپنے قومی مفادات اور مذہبی عقائد کے تحفظ کے لیے پوری طرح چوکنا اور پرعزم ہے۔
آخر میں انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور کسی بھی ایسی کوشش کی حمایت نہیں کرے گا جس سے مسلم دنیا کے اتحاد یا مقدس مقامات کے تقدس کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔





اپنی رائے دیں