مواد پر جائیں
منگل، 20 اکتوبر 2026 9 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 12:17
بریکنگ
قلات اور گوادر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 4 دہشتگرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہیدآسٹریلیا: وفاقی رکن پارلیمنٹ گاڑی کی ٹکر سے شدید زخمی، حالت تشویشناکدہشتگردی کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جانا چاہیے: نواز شریفکراچی: سائٹ ایریا میں گارمنٹس فیکٹری کے گودام میں دوبارہ آگ بھڑک اٹھیسوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد کا معاملہ، اقرار الحسن عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقللاہور: مزنگ اڈا میں گیس سلنڈر لیک ہونے سے آگ بھڑک اٹھی، 2 افراد زخمیلاہور: گیس لیکیج سے آگ لگنے کے باعث 2 افراد زخمی، مختلف واقعات میں 4 جاں بحقحرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ڈی جی آئی ایس پی آرقصور: بجلی چوری پکڑنے پر لیسکو ٹیم پر مسلح افراد کا حملہ، مقدمہ درجمشرق وسطیٰ میں فوجی تصادم پر مکہ الائنس کا اجتماعی ڈیٹرنس حرکت میں آئے گا: ڈی جی آئی ایس پی آربلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہیدسعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آربالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کے ملزمان راجستھان سے گرفتارفرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے وزیرِ داخلہ کا استعفیٰ مسترد کر دیاکراچی: سٹی وارڈن کے اغوا اور تشدد کا مقدمہ، ریلوے پولیس اہلکار نامزدپاکستان ڈیجیٹل اینڈ اے آئی کمپیکٹ پر دستخط کرنے والا پہلا ملک بننے کے لیے تیارخیبرپختونخوا: خستہ حال اسکول عمارتوں میں تدریسی سرگرمیوں پر پابندی عائدقراقرم ایکسپریس 30 اکتوبر سے نجی شعبے کے حوالے کر دی جائے گیپیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلانفرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا دورہ متحدہ عرب امارات، آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گفتگو
شوبز

سندھ ہائیکورٹ نے فلم گھوسٹ اسکول کی مشروط نمائش کی اجازت دیدی

عدالت نے سندھ سنسر بورڈ کو فلم سازوں کا اعتراض دور کرنے کے بعد دس دن میں سرٹیفکیٹ دینے کا حکم دیا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ نے فلم گھوسٹ اسکول کی مشروط نمائش کی اجازت دیدی

سندھ ہائیکورٹ نے بین الاقوامی اعزاز یافتہ فلم گھوسٹ اسکول کی عوامی سطح پر مشروط نمائش کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ فلم سازوں کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سامنے آیا ہے جس میں سندھ کے سنسر بورڈ کی جانب سے عائد کردہ پابندی کو چیلنج کیا گیا تھا۔

اس معاملے کی سماعت سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے کی جس میں جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری شامل تھے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فلم کی ریلیز کی راہ ہموار کرتے ہوئے اہم قانونی احکام صادر کیے ہیں۔

فلم گھوسٹ اسکول کو اس سے قبل وفاقی سنسر بورڈ اور پنجاب کا سنسر بورڈ نمائش کے لیے پہلے ہی سرٹیفکیٹ جاری کر چکے تھے۔ تاہم سندھ کے سنسر بورڈ نے اس فلم کی سرٹیفکیشن کو بغیر کسی معقول وجہ کے روکے رکھا تھا جس پر فلم ساز عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہوئے۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں یہ نکتہ اٹھایا کہ سندھ سنسر بورڈ نے فلم کی نمائش روکنے کے لیے کوئی بھی واضح اور معقول قانونی وجوہات پیش نہیں کی تھیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اگر صوبائی بورڈ کو دیگر صوبوں کے فیصلے سے ہٹ کر کوئی مؤقف اپنانا تھا تو اس کے لیے قانونی جواز دینا ضروری تھا۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں ہدایت کی ہے کہ فلم ساز فلم سے ایک مخصوص اعتراض نمبر سات کے تحت آنے والے جملے کو ہٹا دیں گے۔ یہ جملہ ختم کیے جانے کے بعد سندھ سنسر بورڈ اس بات کا پابند ہوگا کہ وہ دس دنوں کے اندر سرٹیفکیشن پر دوبارہ غور کرے۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ متعلقہ بورڈ یا تو فلم کو عام نمائش کے لیے باضابطہ سرٹیفکیٹ جاری کرے یا پھر اگر کوئی دیگر قانونی تحفظات باقی ہوں تو فلم سازوں کو ذاتی سماعت کا موقع فراہم کرے۔ بورڈ اپنے پرانے دائرہ کار اور اعتراضات سے باہر نکل کر کوئی بھی نیا اعتراض عائد کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔

عدالت کے اس فیصلے سے فلمی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور شائقین اب اس ایوارڈ یافتہ فلم کو سندھ بھر کے سینما گھروں میں دیکھنے کے منتظر ہیں۔ فلم سازوں نے عدالتی فیصلے کو فنون لطیفہ اور سینما کی آزادی کے حق میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔

سندھ ہائیکورٹ کے اس فیصلے سے صوبائی سطح پر سنسرشپ کے اختیارات اور ان کے شفاف استعمال سے متعلق بحث ایک بار پھر سامنے آ گئی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ اقدام ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ اور اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔

مذکورہ فلم نے ملک اور بیرون ملک کافی پذیرائی حاصل کی ہے اور اسے بین الاقوامی سطح پر ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے۔ ایسے میں کسی بھی صوبائی ادارے کی جانب سے بلاجواز تاخیر یا رکاوٹ نے تخلیقی عمل سے وابستہ افراد کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا تھا جس کا اب قانونی ازالہ ہو چکا ہے۔

جے جے سیماب گل اور دیگر کی جانب سے دائر کی جانے والی اس آئینی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ جب وفاقی سطح اور دوسرے بڑے صوبے اس فلم کو نمائش کے لیے موزوں قرار دے چکے ہیں تو سندھ میں بلاجواز روکنا امتیازی سلوک کے زمرے میں آتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی عدالت نے سندھ سنسر بورڈ کو اس معاملے پر ازسرنو غور کرنے اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے فلم سازوں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا پورا موقع فراہم کرنے کی واضح ہدایت جاری کی تھی جس پر تسلی بخش عمل درآمد نہیں کیا گیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا کہ سنسر بورڈ کو کسی بھی پروڈکشن کے حوالے سے فیصلے کرتے وقت غیر جانبدار رہنا چاہیے اور تمام قانونی تقاضوں کو پس پشت ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے۔ من مانے فیصلے ثقافتی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔

فلم سازوں کو اب عدالتی احکام کی روشنی میں مطلوبہ جملہ ہٹانے کے بعد اپنی دستاویزات متعلقہ بورڈ میں پیش کرنا ہوں گی تاکہ سندھ بھر میں اس فلم کی باضابطہ نمائش کا راستہ مکمل طور پر صاف ہو سکے اور شائقین سنیما گھروں کا رخ کر سکیں۔

شوبز کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں