مواد پر جائیں
پیر، 19 اکتوبر 2026 8 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 10:58
بریکنگ
قلات اور گوادر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 4 دہشتگرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہیدآسٹریلیا: وفاقی رکن پارلیمنٹ گاڑی کی ٹکر سے شدید زخمی، حالت تشویشناکدہشتگردی کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جانا چاہیے: نواز شریفکراچی: سائٹ ایریا میں گارمنٹس فیکٹری کے گودام میں دوبارہ آگ بھڑک اٹھیسوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد کا معاملہ، اقرار الحسن عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقللاہور: مزنگ اڈا میں گیس سلنڈر لیک ہونے سے آگ بھڑک اٹھی، 2 افراد زخمیلاہور: گیس لیکیج سے آگ لگنے کے باعث 2 افراد زخمی، مختلف واقعات میں 4 جاں بحقحرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ڈی جی آئی ایس پی آرقصور: بجلی چوری پکڑنے پر لیسکو ٹیم پر مسلح افراد کا حملہ، مقدمہ درجمشرق وسطیٰ میں فوجی تصادم پر مکہ الائنس کا اجتماعی ڈیٹرنس حرکت میں آئے گا: ڈی جی آئی ایس پی آربلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہیدسعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آربالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کے ملزمان راجستھان سے گرفتارفرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے وزیرِ داخلہ کا استعفیٰ مسترد کر دیاکراچی: سٹی وارڈن کے اغوا اور تشدد کا مقدمہ، ریلوے پولیس اہلکار نامزدپاکستان ڈیجیٹل اینڈ اے آئی کمپیکٹ پر دستخط کرنے والا پہلا ملک بننے کے لیے تیارخیبرپختونخوا: خستہ حال اسکول عمارتوں میں تدریسی سرگرمیوں پر پابندی عائدقراقرم ایکسپریس 30 اکتوبر سے نجی شعبے کے حوالے کر دی جائے گیآئی جی جیل خانہ جات کو رشوت کی پیشکش، سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل گرفتارپیرو کے ائیرپورٹ پر پرواز میں آتشزدگی، تمام مسافر محفوظ رہے
کاروبار

پاکستان میں کاروباری طبقہ شدید مشکلات کا شکار، میاں شاہد حسین کا اظہار تشویش

کینیڈا بزنس کمیونٹی کے صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کے بلوں میں سبسڈی اور تاجر دوست پالیسیاں متعارف کرائی جائیں۔

پاکستان میں کاروباری طبقہ شدید مشکلات کا شکار، میاں شاہد حسین کا اظہار تشویش

پاکستان میں موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر کاروباری برادری کو درپیش چیلنجز پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ کینیڈا بزنس کمیونٹی کے صدر الحاج میاں شاہد حسین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملکی تاجر طبقہ اس وقت انتہائی کٹھن حالات سے گزر رہا ہے۔

میاں شاہد حسین کے مطابق مہنگائی کی بلند شرح، شرح سود میں اضافہ اور بجلی کے بھاری بھرکم بلوں نے ملکی صنعت و تجارت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان عوامل کے باعث کاروبار کو جاری رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیداواری لاگت میں دو سو فیصد تک کا غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے چھوٹے تاجروں کے لیے اپنے اخراجات پورے کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ تاجروں کے لیے بجلی کے بلوں کی ادائیگی اور دکانوں کے کرائے ادا کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔

کاروباری شخصیت نے ایف بی آر کے پیچیدہ ٹیکس نظام پر بھی تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئے روز نئے ٹیکسز کے نفاذ سے تاجر برادری میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے بجائے مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

میاں شاہد حسین نے اس بات پر زور دیا کہ مہنگائی کی وجہ سے عوام کی قوت خرید میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کے نتیجے میں مارکیٹوں میں گاہکوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، جس سے کاروباری منڈیاں مندی کا شکار ہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کاروباری برادری کے لیے آسان اور سازگار پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی کے بلوں پر خصوصی سبسڈی فراہم کی جائے تاکہ پیداواری لاگت کو کم کیا جا سکے اور معیشت کا پہیہ دوبارہ رواں ہو سکے۔

میاں شاہد حسین نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو معاشی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے کاروبار دوست ماحول پیدا ہو اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔

واضح رہے کہ ملک میں جاری معاشی اصلاحات کے باوجود تاجر برادری کی جانب سے ٹیکسوں کے بوجھ اور توانائی کی قیمتوں پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ تاجروں کا مطالبہ ہے کہ معاشی استحکام کے لیے ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

ماہرین معاشیات کا بھی ماننا ہے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان شعبوں کی ترقی کے بغیر پائیدار معاشی نمو کا حصول ممکن نہیں ہے، جس کے لیے حکومتی تعاون ناگزیر ہے۔

حکومت کی جانب سے اکثر یہ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ معاشی استحکام کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں تاہم تاجر برادری کا مطالبہ ہے کہ ان فیصلوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ریلیف پیکجز کا اعلان کیا جائے۔

ملک بھر کی تجارتی تنظیمیں وقتاً فوقتاً اپنے مطالبات کے حق میں آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ ٹیکس دہندگان کو سہولیات فراہم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

مستقبل کے حوالے سے تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر حالات اسی طرح رہے تو نیا کاروبار شروع کرنا کسی بھی سرمایہ کار کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے طویل مدتی معاشی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔

امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ حکومت کاروباری طبقے کے ان خدشات کا نوٹس لے گی اور معاشی بہتری کے لیے تاجر برادری کے ساتھ مل کر مشاورت کے ذریعے لائحہ عمل تیار کرے گی تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔

کاروبار کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں