ترجمان پاک فوج اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے مابین گہرے تزویراتی تعلقات اور دفاعی تعاون پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات باہمی اعتماد اور سلامتی کے اشتراک پر مبنی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ تین ممالک کی مشترکہ سوچ اور اتحاد کا ایک اہم مظہر ہے جس نے بہت کم وقت میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معاہدہ خطے میں استحکام کیلئے ایک مثبت قدم ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری اور حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کیلئے ناقابلِ سمجھوتہ حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کیلئے ہر ضروری اقدام اٹھانے کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پوری مسلم امہ کیلئے انتہائی عقیدت اور اہمیت کے حامل مراکز ہیں، جن کا تحفظ ہر مسلمان کا ایمان ہے۔ پاکستان ان مقدس مقامات کے تحفظ کیلئے سعودی قیادت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان عناصر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو اس دفاعی معاہدے پر بلاوجہ اعتراضات اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس اتحاد پر تنقید کر رہے ہیں، درحقیقت وہ پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی تعلقات سے ناواقف یا تعصب کا شکار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، معاشی اور سفارتی سطح پر تعاون کا تسلسل خطے میں امن کیلئے ناگزیر ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ اولیت حاصل رہی ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی کیلئے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی لچک کی گنجائش نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کو اپنی سوچ درست کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں بلکہ خطے کے تحفظ اور مسلم امہ کے اتحاد کو مضبوط بنانے کیلئے ایک مربوط کوشش کا نام ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتی ہیں تاکہ کسی بھی قسم کے چیلنجز کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔ یہ تعاون دونوں برادر ممالک کے عوام کے مفادات کے تحفظ کیلئے انتہائی ضروری ہے۔
ترجمان پاک فوج نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ سے مسلم دنیا کے اتحاد کا علمبردار رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری اسی وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد خطے کو درپیش سکیورٹی خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی تعاون کا دائرہ کار وسیع ہے جس میں تربیت، ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور انٹیلی جنس شیئرنگ شامل ہیں۔ یہ تمام اقدامات دونوں ممالک کی عسکری صلاحیتوں کو مزید نکھارنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ دفاعی معاہدے پر تنقید کرنے والوں کے اپنے مقاصد ہو سکتے ہیں، تاہم پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اشتراک کا مقصد خطے میں قیامِ امن اور سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔
آخر میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی حمایت کا سلسلہ مستقبل میں بھی اسی جذبے کے ساتھ جاری رہے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان قائم یہ رشتہ وقت کی ہر آزمائش پر پورا اترا ہے اور ان شاء اللہ مزید مضبوط ہوگا۔





اپنی رائے دیں