مواد پر جائیں
پیر، 19 اکتوبر 2026 8 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 10:17
بریکنگ
آسٹریلیا: وفاقی رکن پارلیمنٹ گاڑی کی ٹکر سے شدید زخمی، حالت تشویشناکدہشتگردی کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جانا چاہیے: نواز شریفکراچی: سائٹ ایریا میں گارمنٹس فیکٹری کے گودام میں دوبارہ آگ بھڑک اٹھیسوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد کا معاملہ، اقرار الحسن عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقللاہور: مزنگ اڈا میں گیس سلنڈر لیک ہونے سے آگ بھڑک اٹھی، 2 افراد زخمیلاہور: گیس لیکیج سے آگ لگنے کے باعث 2 افراد زخمی، مختلف واقعات میں 4 جاں بحقحرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: ڈی جی آئی ایس پی آرقصور: بجلی چوری پکڑنے پر لیسکو ٹیم پر مسلح افراد کا حملہ، مقدمہ درجمشرق وسطیٰ میں فوجی تصادم پر مکہ الائنس کا اجتماعی ڈیٹرنس حرکت میں آئے گا: ڈی جی آئی ایس پی آربلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 4 دہشت گرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہیدسعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آربالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کے ملزمان راجستھان سے گرفتارفرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے وزیرِ داخلہ کا استعفیٰ مسترد کر دیاکراچی: سٹی وارڈن کے اغوا اور تشدد کا مقدمہ، ریلوے پولیس اہلکار نامزدپاکستان ڈیجیٹل اینڈ اے آئی کمپیکٹ پر دستخط کرنے والا پہلا ملک بننے کے لیے تیارخیبرپختونخوا: خستہ حال اسکول عمارتوں میں تدریسی سرگرمیوں پر پابندی عائدقراقرم ایکسپریس 30 اکتوبر سے نجی شعبے کے حوالے کر دی جائے گیآئی جی جیل خانہ جات کو رشوت کی پیشکش، سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل گرفتارراولپنڈی میں خاتون کے ہمراہ خطرناک ون ویلنگ پر سی ٹی او کا نوٹسفرانس میں مہنگائی کیخلاف احتجاج پرتشدد، مہنگے برانڈز کے اسٹور لوٹ لیے گئے
دنیا بریکنگ نیوز

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے وزیرِ داخلہ کا استعفیٰ مسترد کر دیا

پرتشدد مظاہروں کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے پیشِ نظر صدر میکرون نے وزیرِ داخلہ کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کر دی۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے وزیرِ داخلہ کا استعفیٰ مسترد کر دیا

فرانس میں حالیہ دنوں کے دوران پیش آنے والے پرتشدد مظاہروں اور ہنگامہ آرائی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے ملک میں ایک نیا سیاسی و انتظامی بحران کھڑا کر دیا ہے۔ اس کشیدہ ماحول میں فرانس کے وزیرِ داخلہ لوراں نونیز کو شدید عوامی اور سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور مظاہروں کو کنٹرول کرنے میں مبینہ ناکامی کے بعد وزیرِ داخلہ نے اخلاقی بنیادوں پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ باضابطہ طور پر صدر ایمانوئل میکرون کو بھجوا دیا تھا۔

تاہم، فرانسیسی صدارتی محل کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق صدر ایمانوئل میکرون نے وزیرِ داخلہ کا استعفیٰ قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ صدر نے انہیں اپنے عہدے پر بدستور کام جاری رکھنے اور ملکی معاملات پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

صدارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر میکرون کا ماننا ہے کہ موجودہ بحرانی کیفیت میں سکیورٹی اداروں کی کمان میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا خلا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس وقت ملک کو ایک مضبوط اور مستحکم انتظامی ڈھانچے کی اشد ضرورت ہے۔

صدر ایمانوئل میکرون نے وزیرِ داخلہ پر زور دیا ہے کہ وہ استعفے کے بجائے ملک میں ریاستی عملداری کو یقینی بنانے اور امن و امان کی بحالی کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں۔ حکومت کا بنیادی مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہے۔

فرانس میں 17 اکتوبر کو ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد سے سیاسی حلقوں میں گرما گرمی دیکھی جا رہی ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ حکومت حالات کو قابو میں لانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔

وزیرِ داخلہ لوراں نونیز پر ہونے والی تنقید کا محور مظاہروں کے دوران سکیورٹی انتظامات میں کوتاہی تھی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ انتظامیہ بروقت ہنگاموں کو روکنے میں ناکام رہی جس سے عوامی املاک کو نقصان پہنچا اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔

فرانسیسی حکومت اب اس کوشش میں ہے کہ جلد از جلد ملک میں معمول کے حالات بحال کیے جائیں۔ صدر میکرون کی جانب سے وزیرِ داخلہ پر اعتماد کا اظہار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے پرعزم ہے۔

حکومتی ترجمان کے مطابق، سکیورٹی اداروں کے سربراہان کو بھی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہیں۔ ملک میں قانون کی حکمرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ شہریوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر میکرون کا یہ فیصلہ سیاسی استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس وقت فرانس کو داخلی طور پر کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے ایک متحد کابینہ اور انتظامیہ کی ضرورت ہے۔

آئندہ چند روز انتہائی اہم ہوں گے کیونکہ حکومت مظاہرین کے مطالبات اور امن و امان کی صورتحال کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔ عوام کی جانب سے بھی پرامن رہنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ ملک مزید انتشار سے بچ سکے۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق، حکومت اب ان وجوہات کا بھی جائزہ لے رہی ہے جن کی وجہ سے مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کر گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

صدر میکرون نے اپنے خطاب میں بھی اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ فرانس میں جمہوریت اور قانون کی پاسداری سب سے مقدم ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ قومی مفاد میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں