پاکستان ٹیکنالوجی کے عالمی میدان میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرنے کے لیے تیار ہے، جس کے تحت ملک 'ڈیجیٹل اینڈ اے آئی کمپیکٹ' پر دستخط کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا۔ اس پیش رفت سے پاکستان میں ڈیجیٹل ترقی اور مصنوعی ذہانت کے فروغ کے نئے دور کا آغاز متوقع ہے۔
اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ ایک اہم سرکاری دورے پر جنوبی کوریا روانہ ہو گئی ہیں۔ یہ دورہ پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کو محفوظ بنانے، انٹرنیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون حاصل کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
وفاقی وزیر جنوبی کوریا میں منعقد ہونے والی 'گلوبل اے آئی اینڈ ڈیجیٹل سمٹ 2026' میں پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔ اس عالمی سمٹ میں شرکت کے دوران شزا فاطمہ خواجہ خصوصی منسٹریل میٹنگ میں بھی حصہ لیں گی، جہاں مصنوعی ذہانت کے فروغ اور ڈیجیٹل شمولیت سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
سمٹ کے دوران وفاقی وزیر پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے تیار کردہ لائحہ عمل بھی پیش کریں گی۔ اس موقع پر وہ عالمی سطح پر انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل سہولیات تک یکساں رسائی کی اہمیت پر زور دیں گی تاکہ ترقی پذیر ممالک کو ٹیکنالوجی کے فوائد سے مستفید ہونے کے یکساں مواقع مل سکیں۔
اپنے دورے کے دوران شزا فاطمہ خواجہ کی اہم عالمی شخصیات اور اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی طے ہیں۔ ان ملاقاتوں میں گوگل کے وائس پریذیڈنٹ ولسن ایل وائٹ اور ورلڈ بینک کے نائب صدر شامل ہیں، جن کے ساتھ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں باہمی تعاون پر بات چیت کی جائے گی۔
حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس اقدام کا مقصد ملک میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا اور معیشت کو ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرنا ہے۔ اس کمپیکٹ پر دستخط سے پاکستان کو عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی ساکھ بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی شراکت داری پاکستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا باعث بنے گی۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری سے سرکاری اور نجی شعبے کی کارکردگی میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
وزارتِ آئی ٹی کے مطابق، یہ اقدام پاکستان کی ڈیجیٹل پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک کو ایک جدید ٹیکنالوجی مرکز کے طور پر ابھارنا ہے۔ عالمی فورمز پر پاکستان کی فعال شمولیت اس عزم کی عکاس ہے کہ ملک تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے لیے پرعزم ہے۔
شزا فاطمہ خواجہ کا یہ دورہ نہ صرف تکنیکی تعاون کے فروغ کے لیے اہم ہے بلکہ یہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے بھی کھول سکتا ہے۔ عالمی اداروں کے ساتھ اشتراک سے پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مہارتوں کی تربیت میں مدد ملے گی۔
پاکستان کی جانب سے اس کمپیکٹ پر دستخط کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، کیونکہ یہ اقدام ڈیجیٹل تقسیم کو کم کرنے اور ٹیکنالوجی تک رسائی کو یقینی بنانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ اس سے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔
سمٹ کے دوران ہونے والی بات چیت میں ڈیٹا سیکیورٹی، ڈیجیٹل حقوق اور مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال جیسے اہم موضوعات بھی زیر بحث آئیں گے۔ پاکستان ان تمام امور پر اپنی واضح پالیسی اور اقدامات کو عالمی برادری کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔
حکومتِ پاکستان کا یہ عزم ہے کہ وہ ڈیجیٹل انقلاب کے ذریعے ملک کی معاشی ترقی کو تیز کرے گی۔ اس کمپیکٹ پر دستخط کرنے کے بعد پاکستان دیگر ممالک کے لیے ایک مثال بنے گا جو ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے خواہشمند ہیں۔
اس دورے کے اختتام پر توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان اور عالمی ٹیکنالوجی اداروں کے درمیان تعاون کے کئی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوں گے۔ یہ پیش رفت پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک روشن باب ثابت ہوگی۔





اپنی رائے دیں