مواد پر جائیں
اتوار، 11 اکتوبر 2026 30 ربیع الثانی 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 8:17
بریکنگ
پنجاب میں بارشوں اور تیز ہواؤں کا سلسلہ، پی ڈی ایم اے کی جانب سے الرٹ جاری
دنیا بریکنگ نیوز

سعودی ایئرپورٹ پر حملہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صورتحال کا جائزہ لینے کا اعلان

امریکی صدر نے سعودی عرب کے ہوائی اڈے پر حملے کے بعد ردعمل دیتے ہوئے معاملے کی جانچ پڑتال کا عندیہ دیا ہے۔

سعودی ایئرپورٹ پر حملہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صورتحال کا جائزہ لینے کا اعلان

سعودی عرب کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حالیہ حملے کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور مختلف ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں سعودی ایئرپورٹ پر ہونے والے اس تازہ ترین حملے کے بارے میں اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم اس پوری صورتحال کا بغور جائزہ لینے جا رہے ہیں تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ امریکا اس معاملے پر خاموش نہیں رہے گا اور مناسب اقدام اٹھائے گا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے جمعرات کے روز ایک بیان میں یہ واضح کیا تھا کہ امریکا تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر کسی قسم کا حملہ نہیں کرے گا۔ اس بیان کے بعد اب سعودی ایئرپورٹ کا واقعہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر عالمی رہنماؤں نے بھی فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے اس حملے کے بعد اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

سعودی حکام نے حملے کے بعد ایئرپورٹ پر سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا ہے اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب پر حملے کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہو سکتا ہے۔ اس طرح کے واقعات سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات پر امریکا اپنے اتحادی کے ساتھ کھڑا ہے۔ واشنگٹن اس صورتحال پر اپنے اتحادیوں سے مسلسل رابطے میں ہے۔

دوسری جانب حوثی باغیوں کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ سعودی عرب نے ماضی میں بھی اس طرح کے حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے نمائندے نے بھی فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے مذاکرات کی میز پر آئیں۔

سعودی عرب نے بارہا عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ سعودی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔

آنے والے دنوں میں اس واقعے کے اثرات کا مزید واضح اندازہ ہو سکے گا۔ عالمی طاقتیں اس معاملے پر کس طرح کا ردعمل دیتی ہیں، اس پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔

امریکی صدر کے حالیہ بیان کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ واشنگٹن اس معاملے پر کیا عملی قدم اٹھاتا ہے۔ فی الحال صورتحال کشیدہ ہے اور سفارتی سطح پر رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ خبر ڈیلی پاکستان آن لائن کے نیوز روم نے اصل رپورٹنگ کی بنیاد پر اپنے الفاظ میں لکھی ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں