مواد پر جائیں
جمعرات، 29 اکتوبر 2026 18 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: شام 6:57
بریکنگ
بلوچستان: سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 9 دہشت گرد ہلاکامریکا کی ایران پر ممکنہ بڑے حملے کی تیاری، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیاکراچی کے علاقے ڈیفنس میں شہریوں کو ہراساں کرنے کی ویڈیوز، پولیس کی تحقیقات جاریکراچی: شاہ فیصل کالونی میں بھائی نے فائرنگ کر کے دو بہنوں کو قتل کر دیاخیبر پختونخوا میں تجاوزات کیخلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز، غیر قانونی تعمیرات مسماردرآمدی گندم کی آمد، آٹے اور گندم کی قیمتوں میں کمی کا امکانبھارت: مائیکروسافٹ ملازم کو نوکری چھوڑنے پر 11 لاکھ کی پیشکش، انٹرنیٹ پر بحثثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے نہم جماعت سائنس گروپ کے نتائج کا اعلان کر دیاآئی سی سی رینکنگ میں بڑی تبدیلی، مارکو جینسن اور ابھیشیک شرما نمبر ون بن گئےکراچی: عمرہ ویزے کی آڑ میں غیر قانونی سفر کی کوشش ناکام، دو بھائی گرفتارملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، چھوٹے کاروباری طبقے میں تشویشعالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، برینٹ کی قیمت 115 ڈالر سے تجاوز کر گئیمصر میں آوارہ کتوں کے حملے میں پندرہ ماہ کی بچی جاں بحقصادق سنجرانی کے ہاں اکیس سال بعد بیٹے کی پیدائش، مبارکبادیںترکیہ سپر لیگ: گالاتاسرائے اور فینرباہچے میچ کے بعد کھلاڑی آپس میں الجھ پڑےلاہور ہائیکورٹ نے کوٹ لکھپت کے ایس ایچ او کی سزا معطل کر دیآئی سی سی کا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر حارث رؤف پر جرمانہایڈیشنل چیف سیکریٹری افتخار علی سہو سے پنشنرز کے نمائندوں کی ملاقاتبیریئر ہٹانے اور کار سرکار مداخلت کیس، ایمان مزاری کا بیان سامنے آ گیالاہور کے علاقے غازی آباد میں سسرالیوں کے مبینہ تشدد سے بہو جاں بحق
دنیا

روس اور یوکرین توانائی جنگ بندی پر متفق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان توانائی سے متعلق جنگ بندی فوری طور پر نافذ ہو رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں اہم اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین توانائی سے متعلق جنگ بندی پر رضا مند ہوگئے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک حالیہ پوسٹ کے ذریعے تفصیلات شیئر کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان توانائی کی تنصیبات اور شعبے سے جڑی جنگ بندی کا نفاذ کیا جا رہا ہے جو فوری طور پر لاگو ہوگی۔ امریکی صدر نے دونوں ممالک کو ہدایت کی کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کریں اور اس کی خلاف ورزی سے گریز کریں۔

امریکی صدر کے اس اہم بیان کے بعد روس اور یوکرین کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تردید یا تائید سامنے نہیں آئی تھی۔ اس پیشرفت کو بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے توانائی کی سپلائی پر پڑنے والے اثرات کم ہو سکتے ہیں۔

گزشتہ روز امریکی صدر نے یوکرین میں سیاسی قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا جس پر روس کی جانب سے بھی مثبت ردعمل سامنے آیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی آئل ریفائنریز پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں یوکرینی صدر پر کھل کر تنقید کی تھی۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ تیل کی تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں ڈیزل کی فراہمی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں سے امریکی کسانوں اور مویشی پالنے والے افراد کو بھی مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

امریکی صدر نے اپنے بیان میں یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ یوکرینی قیادت نے تنازع کے پرامن حل اور جنگ کے خاتمے کے مواقع کو بارہا مسترد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کی میز پر آنے کے کئی مواقع موجود تھے لیکن انہیں دانستہ طور پر ٹھکرایا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مشورہ دیا تھا کہ یوکرین کو اب ایک ایسے نئے صدر کا انتخاب کرنا چاہیے جو روس کے ساتھ باضابطہ معاہدہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کو ایک ایسا نیا لیڈر درکار ہے جو اس طویل اور تباہ کن جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ معاہدہ کر سکے۔

امریکی صدر کے اس بیان کے فوراً بعد روسی حکام کی طرف سے ردعمل ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مطالبے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ روسی حکام کا کہنا تھا کہ یوکرینی صدر کی رخصتی کے حوالے سے امریکی مطالبہ ایک انتہائی اہم اور تاریخی نوعیت کا بیان ہے۔

عالمی سیاسی مبصرین اس تمام صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ توانائی جنگ بندی کا یہ معاہدہ زمینی حقائق پر کتنا اثرانداز ہوتا ہے۔ توانائی کے شعبے میں اس عارضی یا جزوی سیز فائر سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے استحکام میں مدد مل سکتی ہے۔

روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع کے باعث پچھلے کئی سالوں سے دنیا بھر میں توانائی کے بحران اور مہنگائی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس نوعیت کی جنگ بندی اگر طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو اس سے عام شہریوں اور معیشت کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر جاری کشمکش اور اب اس توانائی جنگ بندی کے نفاذ کے بعد آئندہ کے چند روز انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ دنیا بھر کی نگاہیں اب ماسکو، کیف اور واشنگٹن کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں تاکہ آئندہ کی حکمت عملی کا تعین ہو سکے۔

واشنگٹن میں ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشمکش اپنے عروج پر ہے۔ توانائی کے شعبے کو محفوظ بنانے کے لیے اٹھائے گئے اس اقدام کو بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

روس اور یوکرین کے مابین اس مبینہ سمجھوتے کے تحت دونوں فریقین ایک دوسرے کی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کریں گے۔ اس سے قبل اس نوعیت کے حملے دونوں ممالک کی معیشتوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہے تھے جن پر اب قابو پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

آئندہ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا دونوںممالک اس توانائی جنگ بندی پر مکمل طور پر عمل درآمد کرتے ہیں یا نہیں۔ دنیا بھر کے اقتصادی اور سیاسی ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ممکنہ اثرات کا تخمینہ لگایا جا سکے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں