مواد پر جائیں
بدھ، 28 اکتوبر 2026 17 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: دوپہر 1:58
تازہ
ترکیہ سپر لیگ: گالاتاسرائے اور فینرباہچے میچ کے بعد کھلاڑی آپس میں الجھ پڑےلاہور ہائیکورٹ نے کوٹ لکھپت کے ایس ایچ او کی سزا معطل کر دیآئی سی سی کا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر حارث رؤف پر جرمانہایڈیشنل چیف سیکریٹری افتخار علی سہو سے پنشنرز کے نمائندوں کی ملاقاتبیریئر ہٹانے اور کار سرکار مداخلت کیس، ایمان مزاری کا بیان سامنے آ گیالاہور کے علاقے غازی آباد میں سسرالیوں کے مبینہ تشدد سے بہو جاں بحقکراچی میں موسم بدستور گرم و خشک، درجہ حرارت اٹھتیس ڈگری تک جانے کا امکانفیسکو سرکلز کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے بلوں کی درستگی کی اجازتاسلام آباد کے پمز ہسپتال میں ‘ون پیشنٹ ون آئی ڈی’ ڈیجیٹل نظام کا نفاذتحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، اہم قرارداد منظورپاکستان تحریک انصاف کا 28 ویں آئینی ترمیم کی مشروط حمایت کا فیصلہدبئی میں گاڑی کی منفرد نمبر پلیٹ CC44 67 لاکھ 20 ہزار درہم میں نیلاممشہور بھارتی ہدایت کار اور ‘سی آئی ڈی’ کے خالق بی پی سنگھ 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئےخیبر پختونخوا کی روایات میں گالم گلوچ کی کوئی گنجائش نہیں: شیر افضل مروتنو مئی کیس: انسداد دہشتگردی عدالت نے حماد اظہر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیااولاد نہ ہونے پر خاندان نے کبھی دباؤ نہیں ڈالا، جواد احمدعمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل، گرفتار افسران معطل اور نیا تقررپاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 1680 ارب روپے رہ گیا: اویس لغاریانسٹاگرام کا یوٹیوب کو ٹکر دینے کیلئے 90 منٹ طویل ویڈیوز کا فیچر متعارفکوئی مجرم اپنی جماعت کا بھی ہو تو رعایت نہیں ملے گی: مریم نواز
پاکستان

بیریئر ہٹانے اور کار سرکار مداخلت کیس، ایمان مزاری کا بیان سامنے آ گیا

بیریئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس میں ایمان مزاری کا عدالت میں ریکارڈ کرایا گیا بیان سامنے آ گیا۔

بیریئر ہٹانے اور کار سرکار مداخلت کیس، ایمان مزاری کا بیان سامنے آ گیا

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بیریئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں ایمان مزاری کا عدالت میں روبرو ریکارڈ کرایا گیا دفعہ تین سو بیالیس کا بیان منظر عام پر آ گیا ہے۔ اس حوالے سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق انہوں نے یہ بیان عدالت میں باقاعدہ جمع کروایا ہے جس میں اس واقعے کے حوالے سے اپنا تفصیلی مؤقف پیش کیا گیا ہے۔

ایمان مزاری نے اپنے اس بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ اپنا یہ بیان کسی رسمی کارروائی کے تحت نہیں بلکہ مکمل طور پر احتجاجاً درج کروا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مخصوص روٹ سے اس وقت کوئی کرکٹ ٹیم نہیں گزر رہی تھی کیونکہ پولیس نے خود اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مہمان ٹیم دوسرے راستے سے روانہ ہو چکی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس کے پاس سڑک کی اس عارضی بندش کے حوالے سے کسی بھی مجسٹریٹ کا باقاعدہ تحریری آرڈر موجود نہیں تھا۔ انہوں نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ انہیں بطور وکیل انسداد دہشت گردی عدالت میں وقت پر پہنچنا تھا اور اسی پیشہ ورانہ ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے وہ اس راستے پر موجود تھیں۔

ایمان مزاری کے مطابق انہوں نے موقع پر موجود پولیس اہلکاروں سے باقاعدہ پندرہ منٹ تک صبر کے ساتھ انتظار کرنے کے بعد سڑک کھولنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح غیر قانونی طور پر سڑکیں بند کرنے سے عام شہریوں کے آئینی حقوق بری طرح متاثر ہوتے ہیں اور نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔

عدالت میں جمع کرائے گئے اس تحریری بیان کے مطابق انہوں نے موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کو یاد دہانی کرائی تھی کہ یہ پبلک روڈ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ایک سوال اٹھایا کہ اگر اس سڑک کی بندش سے سکیورٹی کا کوئی حقیقی خطرہ موجود تھا تو پولیس نے عام موٹر سائیکل سواروں کو اس راستے سے گزرنے سے کیوں نہیں روکا۔

ایمان مزاری نے اس موقع پر سنگین الزام عائد کیا کہ پراسیکیوشن نے جان بوجھ کر اس واقعے کی ویڈیو کا اصل اور مکمل ٹرانسکرپٹ چھپانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ویڈیو کا اصل ٹرانسکرپٹ عدالت کے سامنے آ جائے تو اس سے استغاثہ کے تمام دعوے اور بیانات غلط ثابت ہو سکتے ہیں۔

بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ بغیر پولیس یونیفارم کے موجود ایک اہلکار ابراہیم نے ان پر لوہے کا بھاری بیریئر اٹھا کر پھینکا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر نے اس صورتحال میں انہیں زدوکوب اور مزید جسمانی نقصان سے بچانے کے لیے محض دفاعی اقدام کیا تھا۔

ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے فوری طور پر پمز ہسپتال سے رجوع کیا تھا اور وہاں کی میڈیکل رپورٹ بطور ایک مستند ثبوت عدالت میں باقاعدہ جمع کروا دی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس مقدمے میں کسی بھی پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کا کوئی بھی معتبر ثبوت عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے۔

بیان میں اس امر کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ واقعے کے فوراً بعد متعلقہ پولیس اہلکار نے پولیس محکمے کے غیر مناسب رویے پر ان سے باقاعدہ معافی بھی مانگی تھی۔ اس کے علاوہ عدالت میں پیش کی جانے والی یو ایس بی کو غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا کہ وہ پولیس اسٹیشن میں کئی روز تک بغیر کسی باقاعدہ سیل کے رکھی گئی۔

عدالتی کارروائی کے حوالے سے مؤقف میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کی جانب سے ان کے جسمانی ریمانڈ کے احکامات معطل کیے جانے کے بعد کی جانے والی تمام تر تفتیشی کارروائی قانونی طور پر بالکل غیر قانونی ہے۔ بیان میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ اس مقدمے میں جتنے بھی گواہان ہیں وہ سب کے سب پولیس اہلکار ہیں اور اس میں ایک بھی آزاد یا پرائیویٹ گواہ شامل نہیں کیا گیا۔

ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ یہ تمام تر مقدمات دراصل ان کے انسانی حقوق کے لیے کھل کر کام کرنے اور ضرورت مندوں کو مفت قانونی خدمات فراہم کرنے کے بدلے میں انتقامی کارروائیاں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اعلیٰ عدالتوں سے ضمانت ملنے کے باوجود انہیں جیل کے اندر دوبارہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گرفتار کیا گیا۔

عدالتی ماحول اور ٹرانسپرنسی کے بارے میں بیان میں شدید شکوہ کیا گیا کہ انہیں پنجرے میں بند کر کے عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا اور اپنے وکلا تک مناسب رسائی سے بھی محروم رکھا گیا۔ آخر میں انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اور ان کے ساتھی بالکل بے گناہ ہیں اور حقوق العباد کی اس طویل جنگ میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

انہوں نے عدالت کے روبرو اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وہ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے اوپر عائد کردہ تمام بے بنیاد الزامات کا پوری قوت سے دفاع کریں گی۔ ان کے اس بیان کے سامنے آنے کے بعد اس مقدمے کی کارروائی میں مزید قانونی موڑ آنے کی توقع کی جا رہی ہے جس پر آئندہ سماعتوں میں وکلا اپنے دلائل پیش کریں گے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں