مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران کی جانب سے پیش کردہ سات روزہ تجویز کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے 52 ویں اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکا ایران کی پیش کردہ شرائط کو تسلیم کر لیتا ہے تو چھٹے روز آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا، جس کے بعد ساتویں روز باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ممکن ہو سکے گا۔
عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی تعاون تنظیم کو خطے کے تنازعات کے حل کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔ یمن کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی ایسی قرارداد کی حمایت نہیں کرے گا جو غیر متوازن ہو، اور تہران اپنے دفاع کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مستعد اور تیار ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے عراقی وزیراعظم علی الزیدی سے ملاقات کے دوران خطے کی تازہ ترین صورتحال، سعودی عرب اور یمن کے تنازع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں یمن کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور علاقائی کشیدگی میں کمی لانے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔
دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ نے مہرداد اخلاقی کو نیا وزیر دفاع اور مسلح افواج کی لاجسٹکس کا وزیر منتخب کر لیا ہے۔ صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے نامزد کیے گئے مہرداد اخلاقی کو 237 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظوری دی گئی۔
نئے وزیر دفاع نے اپنے بیان میں امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور حیران کن جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی افواج کے انخلا پر توجہ دیں، بصورت دیگر جارحیت کی صورت میں امریکی فوجیوں کو تابوتوں میں واپس جانا پڑے گا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک عوامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے میں کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اب تہران سے طویل مدتی اور قابل تصدیق ضمانت چاہتا ہے تاکہ ایران مستقبل میں جوہری صلاحیت دوبارہ بحال نہ کر سکے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی تہران کو متنبہ کیا ہے کہ اسے جوہری عزائم ترک کر کے مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا، ورنہ تباہ کن فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے ایران پر خطے کی مختلف تنظیموں کی مالی معاونت کا الزام بھی عائد کیا۔
خطے میں جاری جنگ نے عالمی تیل کی ترسیل کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ برطانوی بحری سکیورٹی اداروں کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز میں جہازوں پر 12 حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔
سعودی عرب میں بھی صورتحال کشیدہ ہے، جہاں نجران کے قریب ہیلی کاپٹر حادثے میں دو فوجی اہلکار جاں بحق ہو گئے۔ سعودی فوجی اتحاد نے ریاض اور مشرقی صوبے کی جانب داغے گئے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
جدہ ایئرپورٹ پر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر فلائٹ آپریشن عارضی طور پر معطل رہا، جس کے باعث درجنوں پروازیں فضا میں چکر لگاتی رہیں۔ ایوی ایشن حکام کے مطابق 45 منٹ کی بندش کے بعد ایئرپورٹ کو دوبارہ پروازوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے جنگ کے معاشی اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع سے یورپی شہریوں کو 100 ارب یورو سے زائد کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپین کی پارلیمنٹ نے متاثرہ شہریوں کی مدد کے لیے امدادی پیکج کی منظوری دی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی فوج کے 'مدر آف آل بمز' نامی ہتھیار پر سخت تنقید کی ہے۔ ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ کسی مقدس لفظ کو تباہی پھیلانے والے ہتھیار کے لیے استعمال کرنا ایک وحشیانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جاری یہ کشیدگی طویل ہوتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی رسد مزید متاثر ہو سکتی ہے۔





اپنی رائے دیں