مواد پر جائیں
پیر، 19 اکتوبر 2026 8 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 2:16
بریکنگ
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ: قومی سلامتی اور سیاسی استحکام کا تقاضادانش اسکول کا دائرہ کار پورے پاکستان تک وسیع کرنے کا اعلانایران کی امریکا کو سات روزہ تجویز، شرائط ماننے پر آبنائے ہرمز کھولنے کا عندیہبالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف فائرنگ کے واقعے میں محفوظ رہےکراچی میں غیر ملکیوں کو لوٹنے والا بڑا سائبر فراڈ نیٹ ورک بے نقاببولان: مزدا اور کار میں تصادم، خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحقممبئی میں بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ، اداکار محفوظراولپنڈی: ون ویلنگ سے روکنے پر فائرنگ، خاتون سمیت 3 افراد زخمیبھارتی اداکار ٹائیگر شروف پر قاتلانہ حملہ، ڈرائیور سمیت تین افراد زخمیسلمان علی آغا کی سری لنکا کیخلاف سنچری، جشن کے منفرد انداز کی وضاحت کر دیایران کی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش کا اظہارسندھ میں مواصلاتی منصوبوں کی تکمیل اور ساحلی ترقی وقت کی اہم ضرورتحکومتِ پنجاب کی لیہ میں نئے میڈیکل کالج کے قیام کی منظوریاقوام متحدہ اور ذیلی اداروں میں پاکستانیوں کے لیے ملازمت کے شاندار مواقعیمن تنازع میں روس کا کردار: توازن برقرار رکھنے کی حکمت عملیمشہور ریسلر بینجمن سیٹرلی کی موت کی وجہ سامنے آ گئیامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت کا اعلانکراچی: گھگھر پھاٹک کے قریب ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان قتلجہلم: ویٹنری ہسپتال میں جدید آپریشن تھیٹر کا افتتاح، موبائل وینز کی فراہمی کا اعلانستاروں کی روشنی میں آپ کا آج کا دن کیسا رہے گا؟
پاکستان بریکنگ نیوز

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ: قومی سلامتی اور سیاسی استحکام کا تقاضا

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات مجبوری ہیں، قومی اتحاد ہی ملک کو درپیش چیلنجز سے نکال سکتا ہے۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ: قومی سلامتی اور سیاسی استحکام کا تقاضا

پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور مشکل جنگ لڑ رہا ہے جس میں ملک نے بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ خیبرپختونخوا میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کی جانب سے کیے گئے ہنگامی اقدامات کو ریاستی تحفظ اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ کسی سیاسی انتقام کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مجبوری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت خاموش تماشائی بن کر تباہی نہیں دیکھ سکتی تھی کیونکہ ایسا کرنا مجرمانہ غفلت کے مترادف ہوتا۔

سرحد پار سے ہونے والی بلااشتعال فائرنگ اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت نے سیکیورٹی اداروں کے لیے چیلنجز میں اضافہ کیا ہے۔ پاک فوج نے تائدہ سیکٹر، اپر کرم اور غوز گڑھی میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر جوابی کارروائیاں کی ہیں تاکہ ملکی خودمختاری کا دفاع یقینی بنایا جا سکے۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں سرحدی نگرانی، خفیہ معلومات کا تبادلہ اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی مالی معاونت کو روکنا شامل ہے۔ پاکستان کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال نہ ہو۔

خیبرپختونخوا کی سابقہ حکومت کی کارکردگی پر بھی وفاقی حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ حکومتی عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ تیرہ برسوں کے دوران دہشت گردی سے نمٹنے میں مطلوبہ موثریت نہیں دکھائی گئی، جس کے باعث سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا۔

سیاسی جماعتوں کے درمیان اس معاملے پر اختلاف رائے بھی سامنے آیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پارلیمنٹ کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلے آئینی فورمز پر ہونے چاہییں۔ ان کا مؤقف ہے کہ سیاسی تنازعات کا حل مذاکرات میں ہی مضمر ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف ریاست کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔ ان جماعتوں کا ماننا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات پر کسی قسم کی سیاست نہیں ہونی چاہیے اور ریاستی رٹ کو ہر صورت قائم رکھا جانا چاہیے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کی سہولت کاری ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں امن کا قیام تعلیم، تجارت اور روزگار کے مواقع بحال کرنے کے لیے ضروری ہے۔

معدنی وسائل کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ یہ صوبائی معاملات ہیں جن میں وفاق کو گھسیٹنا حقائق کے منافی ہے۔ ایسے بیانات سے قومی اتحاد کو نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔

قومی اتحاد کا مطلب سیاسی اختلافات کا خاتمہ نہیں بلکہ آئین کی حدود میں رہ کر کام کرنا ہے۔ کوئی بھی مسلح گروہ ریاستی اختیار کو چیلنج نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کو قانون سے بالاتر ہونے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کے معیار کو واضح کرے تاکہ صوبوں کے درمیان امتیازی سلوک کا تاثر پیدا نہ ہو۔ گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے اقدامات کا نفاذ آئینی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے۔

دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کا دکھ پورے معاشرے کا مشترکہ درد ہے۔ بازاروں میں دھماکوں کا خوف اور نقل مکانی پر مجبور خاندان اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ تمام سیاسی قوتیں مل کر دہشت گردی کے عفریت کو شکست دیں۔

آخر میں، کامیابی کا انحصار پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کی استعداد کار بڑھانے پر ہے۔ جب تک مقامی انتظامیہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے قابل نہیں ہوگی، تب تک پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں