پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور مشکل جنگ لڑ رہا ہے جس میں ملک نے بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ خیبرپختونخوا میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کی جانب سے کیے گئے ہنگامی اقدامات کو ریاستی تحفظ اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ کسی سیاسی انتقام کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مجبوری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت خاموش تماشائی بن کر تباہی نہیں دیکھ سکتی تھی کیونکہ ایسا کرنا مجرمانہ غفلت کے مترادف ہوتا۔
سرحد پار سے ہونے والی بلااشتعال فائرنگ اور دہشت گردوں کی نقل و حرکت نے سیکیورٹی اداروں کے لیے چیلنجز میں اضافہ کیا ہے۔ پاک فوج نے تائدہ سیکٹر، اپر کرم اور غوز گڑھی میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر جوابی کارروائیاں کی ہیں تاکہ ملکی خودمختاری کا دفاع یقینی بنایا جا سکے۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں سرحدی نگرانی، خفیہ معلومات کا تبادلہ اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی مالی معاونت کو روکنا شامل ہے۔ پاکستان کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال نہ ہو۔
خیبرپختونخوا کی سابقہ حکومت کی کارکردگی پر بھی وفاقی حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ حکومتی عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ تیرہ برسوں کے دوران دہشت گردی سے نمٹنے میں مطلوبہ موثریت نہیں دکھائی گئی، جس کے باعث سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا۔
سیاسی جماعتوں کے درمیان اس معاملے پر اختلاف رائے بھی سامنے آیا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پارلیمنٹ کی بالادستی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلے آئینی فورمز پر ہونے چاہییں۔ ان کا مؤقف ہے کہ سیاسی تنازعات کا حل مذاکرات میں ہی مضمر ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف ریاست کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔ ان جماعتوں کا ماننا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات پر کسی قسم کی سیاست نہیں ہونی چاہیے اور ریاستی رٹ کو ہر صورت قائم رکھا جانا چاہیے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کی سہولت کاری ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں امن کا قیام تعلیم، تجارت اور روزگار کے مواقع بحال کرنے کے لیے ضروری ہے۔
معدنی وسائل کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ یہ صوبائی معاملات ہیں جن میں وفاق کو گھسیٹنا حقائق کے منافی ہے۔ ایسے بیانات سے قومی اتحاد کو نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔
قومی اتحاد کا مطلب سیاسی اختلافات کا خاتمہ نہیں بلکہ آئین کی حدود میں رہ کر کام کرنا ہے۔ کوئی بھی مسلح گروہ ریاستی اختیار کو چیلنج نہیں کر سکتا اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کو قانون سے بالاتر ہونے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کے معیار کو واضح کرے تاکہ صوبوں کے درمیان امتیازی سلوک کا تاثر پیدا نہ ہو۔ گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے اقدامات کا نفاذ آئینی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہے۔
دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کا دکھ پورے معاشرے کا مشترکہ درد ہے۔ بازاروں میں دھماکوں کا خوف اور نقل مکانی پر مجبور خاندان اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ تمام سیاسی قوتیں مل کر دہشت گردی کے عفریت کو شکست دیں۔
آخر میں، کامیابی کا انحصار پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے اداروں کی استعداد کار بڑھانے پر ہے۔ جب تک مقامی انتظامیہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے قابل نہیں ہوگی، تب تک پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ہے۔





اپنی رائے دیں