مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 10:37
بریکنگ
بولان: مزدا اور کار میں تصادم، خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحقممبئی میں بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ، اداکار محفوظراولپنڈی: ون ویلنگ سے روکنے پر فائرنگ، خاتون سمیت 3 افراد زخمیبھارتی اداکار ٹائیگر شروف پر قاتلانہ حملہ، ڈرائیور سمیت تین افراد زخمیپی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس: لانگ مارچ کی ناکامی پر اہم رہنماؤں کے تحفظاتیوٹیوب سرچ میں مصنوعی ذہانت کا نیا تجربہ، صارفین کو ویڈیوز کے خلاصے ملیں گےلندن میں اسلاموفوبیا کے خلاف لبنانی فنکار کا منفرد اقدام، ‘کوسمک بریتھ’ پیشپی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس: لانگ مارچ اور سیاسی حکمت عملی پر اہم مشاورتامام الحق کو پریذیڈنٹ ٹرافی میں شرکت کی اجازت مل گئیآئی میکس فلم سازی: روایتی سیلولائڈ اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا موازنہسہ فریقی ون ڈے سیریز: پاکستان نے سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دے دیتین ملکی ون ڈے سیریز: پاکستان نے سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دے دیبابر اعظم کا انٹرنیشنل کرکٹ میں 16 ہزار رنز کا سنگ میل عبورجے یو آئی نے خیبر پختونخوا میں ضلعی سطح پر قائم کمیٹیوں کو مسترد کر دیابابر اعظم انٹرنیشنل کرکٹ میں 16 ہزار رنز بنانے والے پانچویں پاکستانی بیٹر بن گئےراولپنڈی: سیکیورٹی ڈیوٹی کے دوران ڈولفن فورس کا اہلکار گولی لگنے سے زخمیعالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 2027 تک 80 ڈالر فی بیرل تک گرنے کا امکانسعد بیگ پاکستان کی جانب سے ون ڈے کرکٹ کھیلنے والے 262 ویں کھلاڑی بن گئےراولپنڈی: سہ ملکی سیریز کی سیکیورٹی پر مامور ڈولفن اہلکار حادثاتی فائر سے زخمیخیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنی ذخائر پر قبضہ ہے، کامران مرتضیٰ
جرم و سزا

لائبہ اعجاز خودکشی کیس: پولیس کی مبینہ سستی پر اہم انکشافات سامنے آگئے

مانسہرہ میں طالبہ لائبہ اعجاز خودکشی کیس میں پولیس کی مبینہ غفلت اور فراڈ کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

لائبہ اعجاز خودکشی کیس: پولیس کی مبینہ سستی پر اہم انکشافات سامنے آگئے

مانسہرہ کے تھانہ سٹی میں ملزم نعمان کے خلاف 85 لاکھ روپے کے فراڈ کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں انتہائی اہم اور چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مانسہرہ پولیس اس معاملے میں ذرا بھی سستی کا مظاہرہ نہ کرتی تو قیمتی انسانی جان کو بچایا جا سکتا تھا۔

طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی کے اس دلخراش معاملے میں روز بروز نئے حقائق سامنے آ رہے ہیں جنہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ متاثرہ حلقوں اور ذرائع کا ماننا ہے کہ بروقت کارروائی سے سانحہ ٹالا جا سکتا تھا۔

تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم نعمان مسلسل لائبہ سے رقوم وصول کر رہا تھا اور صورتحال کافی حد تک واضح ہو چکی تھی۔ اس حوالے سے فراڈ کیس کے مدعی نے متعلقہ تفتیشی افسر کو خصوصی طور پر لائبہ سے رابطہ کر کے متنبہ کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔

مدعی مقدمہ کی جانب سے بار بار توجہ دلائے جانے کے باوجود تفتیشی افسر نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔ افسر نے نہ تو خود لائبہ سے رابطہ کرنے کی زحمت کی اور نہ ہی مرکزی ملزم نعمان کو گرفتار کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا۔

واقعے سے متعلق ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ لائبہ کی موت سے ٹھیک 1 مہینہ قبل مقدمہ کے مدعی نے مانسہرہ پولیس کے ہمراہ خود اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر مقامی پولیس کو ملزم کی موجودگی کی اطلاع بھی دی گئی تھی۔

مانسہرہ پولیس نے اسلام آباد پولیس کے ساتھ اشتراک کرتے ہوئے ملزم نعمان کے گھر پر چھاپہ بھی مارا تھا جہاں کارروائی کے دوران گھر میں موجود بچوں نے پولیس کو بتایا کہ ملزم رات کے وقت کہیں اور چلا گیا ہے۔

ابتدائی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملزم نعمان نے انتہائی مکاری کے ساتھ مانسہرہ کے ایک ہی خاندان کے 12 بچوں کو حساس ادارے میں ملازمت دلانے کا جھانسہ دیا تھا۔ ملزم نے لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے تمام حربے استعمال کیے۔

ملزم کی جانب سے دھوکہ دہی کے اس مکروہ کھیل کو آگے بڑھاتے ہوئے ان 12 لڑکوں اور لڑکیوں کے سی ایم ایچ سے باقاعدہ میڈیکل ٹیسٹ بھی کروائے گئے تھے تاکہ متاثرہ خاندان کو کسی قسم کا کوئی شک نہ گزرے۔

ملزم نے اس سادہ لوح متاثرہ خاندان سے سرکاری نوکری اور بھرتی کے نام پر مجموعی طور پر 85 لاکھ روپے بٹورے تھے جس پر متاثرین کی مدعیت میں باقاعدہ مقدمہ بھی درج کیا جا چکا ہے۔

فریب کاری کی حد یہ ہے کہ ملزم نعمان نے اس خاندان کو مکمل یقین دلانے کے لیے جعلی اپوائنٹمنٹ لیٹر اور باقاعدہ سروس کارڈ بھی اپنے ہاتھ سے بنا کر دیے تھے تاکہ وہ دھوکہ کھاتے رہیں۔

پولیس حکام اب اس تمام معاملے کی مختلف قانونی زاویوں سے گہرائی کے ساتھ جانچ پڑتال کر رہے ہیں تاکہ اس بڑے فراڈ اور اس سے جڑے دیگر محرکات کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جا سکے۔

متاثرہ خاندان اور انصاف پسند شہریوں نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ غفلت برتنے والے عملے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

پولیس کے اعلیٰ ترین دفاتر کی جانب سے اس کیس کے تمام پہلوؤں کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی ممکن ہو۔

جرم و سزا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں