مواد پر جائیں
پیر، 19 اکتوبر 2026 8 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 1:36
بریکنگ
دانش اسکول کا دائرہ کار پورے پاکستان تک وسیع کرنے کا اعلانایران کی امریکا کو سات روزہ تجویز، شرائط ماننے پر آبنائے ہرمز کھولنے کا عندیہبالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف فائرنگ کے واقعے میں محفوظ رہےکراچی میں غیر ملکیوں کو لوٹنے والا بڑا سائبر فراڈ نیٹ ورک بے نقاببولان: مزدا اور کار میں تصادم، خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحقممبئی میں بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ، اداکار محفوظراولپنڈی: ون ویلنگ سے روکنے پر فائرنگ، خاتون سمیت 3 افراد زخمیبھارتی اداکار ٹائیگر شروف پر قاتلانہ حملہ، ڈرائیور سمیت تین افراد زخمیحکومتِ پنجاب کی لیہ میں نئے میڈیکل کالج کے قیام کی منظوریاقوام متحدہ اور ذیلی اداروں میں پاکستانیوں کے لیے ملازمت کے شاندار مواقعیمن تنازع میں روس کا کردار: توازن برقرار رکھنے کی حکمت عملیمشہور ریسلر بینجمن سیٹرلی کی موت کی وجہ سامنے آ گئیامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت کا اعلانکراچی: گھگھر پھاٹک کے قریب ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان قتلجہلم: ویٹنری ہسپتال میں جدید آپریشن تھیٹر کا افتتاح، موبائل وینز کی فراہمی کا اعلانستاروں کی روشنی میں آپ کا آج کا دن کیسا رہے گا؟راولپنڈی: موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے میاں بیوی جاں بحقصوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی صاحبزادی ودیعت فاطمہ رشتہ ازدواج میں منسلکجاپان کا امریکا میں سیمی کنڈکٹر چپس کی تیاری کیلئے 21 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلانسعودی عرب: عمرہ زائرین کے لیے ڈیجیٹل سہولیات کا آغاز
پاکستان

کراچی: گھگھر پھاٹک کے قریب ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان قتل

ملیر کے علاقے میں مسلح ڈاکوؤں نے موبائل فون چھیننے کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کر کے 32 سالہ شہری کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

کراچی: گھگھر پھاٹک کے قریب ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان قتل

کراچی کے ضلع ملیر میں ڈکیتی کی ایک افسوسناک واردات کے دوران مسلح ملزمان نے فائرنگ کر کے ایک نوجوان کی جان لے لی۔ واقعہ اسٹیل ٹاؤن کے قریب گھگھر پھاٹک کے علاقے میں پیش آیا جہاں ڈاکوؤں نے لوٹ مار کے دوران مزاحمت پر گولی چلا دی۔

پولیس حکام کے مطابق مقتول کی شناخت 32 سالہ عنایت عباسی کے نام سے ہوئی ہے جو پپری کا رہائشی تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مقتول اپنے دوست جنید کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر کہیں جا رہا تھا کہ ڈاکوؤں نے انہیں روک لیا۔

واردات کے دوران جب ڈاکوؤں نے موبائل فون چھیننے کی کوشش کی تو مقتول نے مزاحمت کی۔ اسی دوران وہاں موجود ایک نجی کمپنی کے گارڈ نے ڈاکوؤں کو دیکھ کر شور مچایا جس پر ملزمان نے بوکھلاہٹ میں فائرنگ کر دی اور موقع سے فرار ہو گئے۔

فائرنگ کے نتیجے میں عنایت عباسی شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر جناح ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ ڈاکٹروں نے ہسپتال پہنچنے پر ان کی موت کی تصدیق کر دی جس کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔

مقتول کے لواحقین نے بتایا کہ عنایت عباسی دو بچوں کے والد تھے اور حال ہی میں انہوں نے اپنے پرانے کاروبار کو چھوڑ کر ہوٹل کا کام شروع کیا تھا۔ وہ اپنے کاروباری سلسلے میں باڑے گئے تھے اور واپسی پر اس المناک واقعے کا شکار ہو گئے۔

ایس ایچ او اسٹیل ٹاؤن جاوید ابڑو نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن اور تفتیش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ جلد ہی ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

شہر میں اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ رواں سال کے دوران کراچی میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 62 تک پہنچ چکی ہے جو کہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔

دوسری جانب ملیر ہی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن کے سیکٹر 20 میں بھی فائرنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا۔ مزار کے قریب ہونے والی اس فائرنگ میں 35 سالہ لال بادشاہ اور 25 سالہ بلال نامی دو افراد زخمی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

پولیس کے مطابق شاہ لطیف ٹاؤن میں پیش آنے والا واقعہ ڈکیتی نہیں بلکہ آپس کے جھگڑے کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔ ایس ایچ او محمد علی شاہ نے بتایا کہ اس معاملے کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلوں کے دوران بھی متعدد ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے تاکہ جرائم کی شرح کو کم کیا جا سکے۔

شہریوں نے حکومت اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کی سڑکوں پر ڈاکوؤں کے بڑھتے ہوئے راج کو ختم کیا جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ موبائل فون اور نقدی چھیننے کے دوران فائرنگ کا بڑھتا ہوا رجحان انتہائی خوفناک ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اسٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لیے گشت کے نظام کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر قریبی تھانے یا ہیلپ لائن پر دیں۔

واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا ہے اور مقتول کے اہل خانہ نے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مقتول کے قاتلوں کو جلد گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں