مواد پر جائیں
ہفتہ، 31 اکتوبر 2026 صبح 6:32 20 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 8:08
بریکنگ
پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز کا بھرپور جوابی ایکشن، دشمن کی پوسٹیں تباہانگور اڈہ پر بلا اشتعال فائرنگ: پاک فوج کا بھرپور جوابی ایکشنمیونخ ایئر ڈیزاسٹر یادگار سے قیمتی اشیاء چوری، انتظامیہ کا افسوس کا اظہاراوگرا نے ایل این جی کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیااو ڈی آئی ٹرائی سیریز کا فائنل: پاکستان اور سری لنکا کل لاہور میں مدمقابلہالی وڈ اداکار بریڈ پٹ کا بچوں سے دوری کے حوالے سے جذباتی اظہارامریکہ ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے قطری سفارتی وفد تہران پہنچ گیاسپین میں ہولناک ٹرین حادثے نے قبل از وقت انتخابات کا رخ بدل دیابنانس کو تاریخ کے سب سے بڑے ہیک کا سامنا، 6.3 ارب ڈالر چوریروس کے سمارا ریجن کی آئل ریفائنری پر یوکرین کا ڈرون حملہگرین بے پیکیٹرز نے کیرولینا پینتھرز کو 27-19 سے ہرا دیاجیمز اینڈرسن کا لنکاشائر سے علیحدگی پر صدمے کا اظہار، کیریئر کا مستقبل غیر یقینیفیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرنے پر غور، مستفید افراد کی تعداد دو کروڑ تک بڑھانے کا امکانعظیم موسیقار خواجہ خورشید انور کی برسی پر فنی خدمات کو خراجِ تحسینایک روپے کی بھی کرپشن ثابت ہوئی تو استعفیٰ دے دوں گی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازدسمبر سے فروری تک بجلی صارفین کیلئے مشکل ترین ہونے کا خدشہخیبر پختونخوا: ٹی ایم ایز کے لیے اضافی گرانٹ، تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی لازمی قرارکراچی: جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان کے قتل پر اہلکار کو سزائے موتخواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان تلخی پارلیمانی نوک جھوک ہے: رانا ثنا اللہبوسنیا: اطالوی فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 4 افراد ہلاک، 11 زخمی
صبح 6:3231 اکتوبر
دنیا

ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے عارضی معاہدے پر غور

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ دونوں ممالک بحری گزرگاہ میں محفوظ نقل و حمل کے لیے قابل عمل انتظامات وضع کر رہے ہیں۔

ایران اور عمان کا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے عارضی معاہدے پر غور

ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے ایک عارضی مفاہمت کے امکانات پر بات چیت جاری ہے۔ اس اہم بحری گزرگاہ میں جہازوں کی محفوظ اور بلاتعطل نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے دونوں ممالک سفارتی سطح پر مشاورت کر رہے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مجوزہ عارضی معاہدے کو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے مترادف قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔ یہ اقدام محض بحری ٹریفک کے انتظام کے لیے ایک ابتدائی کوشش ہے۔

ترجمان کے مطابق ایران اور عمان اس بات پر متفق ہیں کہ اس اہم بین الاقوامی گزرگاہ میں جہاز رانی کے معاملات کو بہتر بنانے کے لیے قابلِ عمل انتظامات کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک باہمی مشاورت سے ایسے طریقہ کار وضع کرنے کے لیے کوشاں ہیں جو عارضی بنیادوں پر معاون ثابت ہوں۔

اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی طویل المدتی سکیورٹی اور انتظام کے لیے ایک پائیدار اور مستقل طریقہ کار کی تشکیل ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے ایران اور عمان ایک ایسے فریم ورک پر کام کر رہے ہیں جس سے بحری آمدورفت کو مستقل بنیادوں پر منظم کیا جا سکے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس گزرگاہ کی سکیورٹی اور اس میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت عالمی توانائی کی منڈیوں کے استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

ایران کا موقف ہے کہ خطے کے ممالک کو اپنی بحری گزرگاہوں کے انتظام اور سکیورٹی کے لیے خود ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ تہران کی جانب سے عمان کے ساتھ یہ مشاورت اسی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ بیرونی مداخلت کے بغیر علاقائی مسائل کا حل نکالا جا سکے۔

اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ایران خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم وہ اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے بھی پرعزم ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران امریکا کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

ترجمان کے اس بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہنے کے باوجود خطے میں کشیدگی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ایران اور عمان کے درمیان یہ مذاکرات اسی پیچیدہ صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

عالمی برادری کی نظریں بھی آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ایران اور عمان کی جانب سے عارضی معاہدے کی کوششوں کو عالمی سطح پر محتاط انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور عمان اس عارضی مفاہمت تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ خطے میں بحری کشیدگی کو کم کرنے میں ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس کے حتمی نتائج کا انحصار دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کی کامیابی پر ہے۔

ایران کی جانب سے اس معاملے پر مسلسل سفارتی رابطے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تہران خطے میں اپنے اثر و رسوخ اور سکیورٹی معاملات کو خود منظم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ عمان، جو اکثر علاقائی تنازعات میں ثالث کا کردار ادا کرتا ہے، اس معاملے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا یہ عارضی معاہدہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو کس حد تک محفوظ بنا پاتا ہے۔ فی الحال، دونوں ممالک کے حکام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بحری سلامتی کے لیے مستقل اور پائیدار حل تلاش کرنا ہی اصل ہدف ہے۔

پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک بھی آبنائے ہرمز میں امن و امان کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بحری تجارت کا انحصار اس گزرگاہ کی فعالیت پر ہے، اس لیے کسی بھی پیش رفت کا اثر براہ راست خطے کی معاشی صورتحال پر پڑتا ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں