کراچی کے شہریوں کو ایک بار پھر موسم کی شدت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جہاں بلوچستان اور تھرپارکر کی سمت سے آنے والی گرم اور خشک ہواؤں کے تسلسل کے باعث شہر میں گرمی کا زور تاحال برقرار ہے۔ محکمہ موسمیات کے ارلی وارننگ سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت اڑتیس سے انتالیس ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ریکارڈ کیا گیا ہے۔
موسمیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبے کے صحرائی علاقوں اور ملحقہ پہاڑی سلسلوں سے چلنے والی ان ہواؤں کی وجہ سے فضا میں خنکی کا عنصر نمایاں طور پر کم ہو چکا ہے تاہم ہوا میں نمی کا تناسب انتہائی کم ہونے کے باعث کسی قسم کی خطرناک ہیٹ ویو جیسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔
دن بھر سورج کی تپش کے ساتھ ساتھ گرم ہوا کے تھپیڑے شہریوں کو پریشان کرتے رہے جس سے روزمرہ کے امور اور دفتری و تعلیمی اداروں کو جانے والے افراد کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دوپہر کے اوقات میں دھوپ کی تیزی اتنی زیادہ تھی کہ شاہراہوں پر معمول کی نقل و حرکت میں بھی کمی دیکھی گئی۔
محکمہ موسمیات کے ریکارڈ کے مطابق جمعرات کے روز شہر میں ہوا میں نمی کا تناسب محض بائیس فیصد کے قریب ریکارڈ کیا گیا جو کہ اس موسم کے لحاظ سے کافی کم ہے۔ نمی کی یہ کمی جلد پسینہ خشک کر کے جسم میں پانی کی کمی کا باعث بنتی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ارلی وارننگ سینٹر کی پیش گوئی کے مطابق دن کے پہلے پہر میں شمال مشرقی اور شمال مغربی سمت سے گرم اور خشک ہوائیں چلنے کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے جبکہ شام کے اوقات میں سمندر کی جنوب مغربی ہوائیں بحال ہو سکتی ہیں جن سے موسم میں کچھ بہتری آنے کی امید ہے۔
محکمہ موسمیات کے ذمہ داران کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ سمندری ہواؤں کی بحالی سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی تو واقع نہیں ہوگی تاہم شام کے وقت شہریوں کو گرمی کی اس شدت سے قدرے ریلیف ضرور مل سکے گا کیونکہ خشک ہواؤں کا زور ٹوٹ جائے گا۔
موسمیاتی ادارے نے آنے والے دنوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ جمعہ اور ہفتہ کو بھی کراچی کا موسم مجموعی طور پر گرم اور خشک ہی رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت سینتیس ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
شہر کے ساتھ ساتھ دیہی سندھ کے اضلاع بھی ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں جہاں پارہ معمول سے زیادہ اوپر جا رہا ہے۔ ان علاقوں میں سورج کی تپش میدانی حصوں میں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے جس سے وہاں کے باسیوں کے معمولات زندگی بھی متاثر ہوئے ہیں۔
محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے صحرائی ضلع مٹھی میں گرمی نے سب سے زیادہ زور دکھایا جہاں پارہ اکتالیس عشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا۔ مٹھی اور اس کے گردونواح میں دن بھر شدید گرمی کی لہر محسوس کی گئی جس کی وجہ سے لوگ گھروں تک محدود رہے۔
اسی طرح تاریخی شہر ٹھٹھہ میں بھی گرمی کی شدت برقرار رہی جہاں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت چالیس عشاریہ آٹھ ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ سندھ کے ان علاقوں میں بھی بارش کا کوئی فی الحال امکان نہیں ہے جس سے گرمی کا یہ زور برقرار رہنے کی توقع ہے۔
طبی ماہرین نے شدید گرمی کی اس صورتحال میں شہریوں بالخصوص بچوں اور بزرگوں کو گھروں سے باہر نکلتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کریں اور بلاضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں۔
محکمہ موسمیات اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مسلسل شہریوں کو یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ موسم کی اس تبدیلی کے دوران اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں تاکہ ہیٹ اسٹروک یا دیگر موسمی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ اس صورتحال میں انتظامیہ کی طرف سے بھی فلاحی اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں گرمی کی اس لہر کے پیش نظر متعلقہ اداروں کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں تاکہ اس موسمی صورتحال کے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔




اپنی رائے دیں