مواد پر جائیں
جمعہ، 6 نومبر 2026 26 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
کراچی: نیا ناظم آباد میں عمارت کا حصہ گرنے سے ایک شخص جاں بحق، 6 زخمیپاکپتن: بس اور ٹرک میں تصادم، 11 جاں بحق، 6 زخمی ساہیوال ریفرالیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں روک دیںامریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ٹیکنالوجی اسٹاکس میں بڑی گراوٹپاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کی این او سی پالیسی میں ترمیم کر دیہالی وڈ اداکار میٹ ڈی من کی اہلیہ لوسیانا باروسو کی برین اینیوریزم سرجری کا انکشافویمنز بگ بیش لیگ: چار لی ناٹ کی سنچری سے برس بین ہیٹ کا 706 روزہ قحط ختمامریکی ریاست کیلیفورنیا: گورنر گی ون نیوسم نے سزائے موت کے تمام 548 قیدیوں کی سزائیں عمر قید میں بدل دیںوزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہاسلام آباد: جے 60 جونیئر ٹینس چیمپئن شپ کے ڈبلز فائنل میں پاکستانی جوڑیوں کا مقابلہوفاقی اور صوبائی حکومتوں کا 9 نومبر کو یومِ اقبال پر عام تعطیل کا اعلانسلامتی کونسل نے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر مبنی بیان متفقہ طور پر منظور کر لیاکراچی: شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ سے 9 سالہ بچہ جاں بحقگنی بساؤ میں متنازع ہیپاٹائٹس بی ویکسین ٹرائل منسوخبرطانوی کامیڈین رسل برانڈ زیادتی اور جنسی ہراسانی کے مقدمے میں مجرم قرارپاکستان اور سری لنکا ٹیسٹ سیریز، قومی کھلاڑیوں کی اسلام آباد آمد شروعپی سی بی اور ابوظہبی ٹی 10 انتظامیہ کے درمیان این او سی کا تنازع حلکراچی: گلشنِ حدید میں گھر پر فائرنگ، ماں اور بیٹی جاں بحق، بیٹا زخمیگولف کی دنیا میں ہلچل، لیو گولف (LIV Golf) اپنے آپریشنز بند کرنے پر مجبورفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایس ایس جی ہیڈکوارٹرز کا دورہ، آپریشنل تیاریوں پر اطمینان
سیاست

وقت بدلتے دیر نہیں لگتی، طاقت مستقل نہیں، کامران مرتضیٰ کا بیان

جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی سطح پر نہیں لانا چاہیے، اقتدار ہمیشہ نہیں رہتا۔

جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقت کا پہیہ مسلسل گھومتا رہتا ہے اور اقتدار یا طاقت کبھی بھی مستقل نہیں ہوتی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ آج جن کے پاس طاقت موجود ہے انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کل یہ صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے سیاسی معاملات میں تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔

کامران مرتضیٰ نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا دور بھی ایک وقت تھا جب وہ عروج پر تھی، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں پی ٹی آئی کی جانب سے بھی تنقید کی جاتی تھی۔

سینیٹر نے اپنی جماعت کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی نے ہمیشہ اصولی سیاست کو ترجیح دی ہے، اگر ہم پارلیمان کے اندر اور باہر متضاد موقف اختیار کرتے تو ہماری سیاسی ساکھ اور وزن متاثر ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم خفیہ طور پر کسی قسم کے مفادات حاصل کرتے تو عوام کی نظر میں ہماری حیثیت کیا رہ جاتی، اس لیے ہم نے ہمیشہ وہی بات کی جس پر ہمارا ایمان تھا اور جسے ہم نے درست سمجھا۔

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ عوام کو خود فیصلہ کرنا چاہیے کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ، انہوں نے کہا کہ سیاست میں اختلافات ہونا ایک فطری عمل ہے لیکن اسے ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنا درست نہیں ہے۔

انہوں نے سیاسی مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے کچھ لوگ ذاتیات پر اتر آتے ہیں اور اخلاقی حدود کو پار کرتے ہوئے گند اچھالتے ہیں، یہ ان کے سیاسی ہلکے پن اور کم ظرفی کی واضح نشانی ہے۔

سینیٹر نے مزید کہا کہ سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنی گفتگو میں شائستگی برقرار رکھیں، کیونکہ گالی گلوچ اور ذاتی حملے کرنے سے ملکی سیاست کا وقار مجروح ہوتا ہے اور معاشرے میں تلخی بڑھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے ہمیشہ جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی ہے اور ہم کسی بھی ایسی سرگرمی کا حصہ نہیں بنیں گے جو ملکی مفادات یا اخلاقی اقدار کے منافی ہو، ہمارا مقصد عوامی خدمت ہے۔

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ وقت کی تبدیلی ایک اٹل حقیقت ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ آج طاقت کے نشے میں دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، کل انہیں بھی اسی طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے سیاسی اختلافات کو پارلیمانی حدود کے اندر رہتے ہوئے حل کریں، تاکہ ملک میں سیاسی استحکام آ سکے اور ہم ان چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں جو اس وقت پاکستان کو درپیش ہیں۔

سینیٹر نے آخر میں کہا کہ ہماری سیاست کا محور ہمیشہ پاکستان کی بقا اور اسلام کے سنہری اصول رہے ہیں، ہم نے کبھی بھی ذاتی مفادات کے لیے اپنے نظریے پر سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کریں گے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت کافی بلند ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان بیانات کا تبادلہ جاری ہے، جس سے سیاسی منظر نامے میں کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

سیاست کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں