نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ قائم کیا ہے۔ اس گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، اس ٹیلیفونک رابطے کا بنیادی مقصد علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنا تھا۔ اس موقع پر اسحاق ڈار نے متنازعہ امور کے حل کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
نائب وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین کو تعمیری انداز میں سفارتی عمل سے وابستہ رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ جب جنگی کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو سفارت کاری کو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، بلکہ اسے کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور امن کے قیام کے لیے مزید مؤثر ذریعہ بننا چاہیے۔
دریں اثناء، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ایکس' پر ایک پیغام میں اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ صدارتی بیان کو اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے پیش کردہ یہ صدارتی بیان 'فعال جنگی حالات کے دوران سفارت کاری کا کردار' کے حوالے سے ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی تاریخی قرارداد نمبر 2788 (2025ء) کی بنیاد پر آگے بڑھایا گیا ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق، یہ کامیابی سلامتی کونسل میں پاکستان کی رکنیت کے دوران تنازعات کے پُرامن حل کے فروغ کے لیے کی جانے والی مسلسل کوششوں اور مؤثر کردار کا تسلسل ہے۔
انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ سلامتی کونسل کے کام میں یہ اہم کردار پاکستان کے اس پختہ یقین کی توثیق کرتا ہے کہ تنازعات کے بدترین اور تاریک ترین حالات میں بھی امن کے حصول کے لیے کوششوں کا سلسلہ کبھی نہیں رکنا چاہیے۔
نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان سفارت کاری کے فروغ کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مقصد صرف زبانی دعووں تک محدود رہنا نہیں، بلکہ بامقصد اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے مذاکرات کو فروغ دینا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے بھی اس رابطے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی تازہ صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
پاکستان کی جانب سے یہ سفارتی کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔
حکومتِ پاکستان کا مؤقف ہے کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے اور سفارتی عمل ہی واحد راستہ ہے جس سے مسائل کا پائیدار حل نکالا جا سکتا ہے۔



اپنی رائے دیں