کراچی کے علاقے گلشنِ حدید فیز ٹو میں ایک افسوسناک واقعے کے دوران نامعلوم ملزم نے گھر میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ماں اور بیٹی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔ فائرنگ کے اس حملے میں گھر میں موجود بیٹا بھی زخمی ہوا ہے۔
واقعہ اسٹیل ٹاؤن تھانے کی حدود میں پیش آیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری اور امدادی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور شواہد اکٹھے کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کو طلب کر لیا گیا۔
ایس ایچ او اسٹیل ٹاؤن محمد خان کے مطابق، فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی خاتون کی شناخت 45 سالہ سمیہ زوجہ محمد دین کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ ان کی 16 سالہ بیٹی بختاور بھی جان کی بازی ہار گئی۔ واقعے میں زخمی ہونے والے 12 سالہ بیٹے زید علی کو فوری طور پر قریبی الخدمت اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے اسے طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ جائے وقوع سے 30 بور پستول کے 4 خول برآمد ہوئے ہیں، جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ کرائم سین یونٹ نے گھر سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں تاکہ ملزم کی شناخت میں مدد مل سکے۔
ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولین کا آبائی تعلق کشمور سے ہے۔ پولیس اس پہلو پر بھی غور کر رہی ہے کہ آیا یہ واقعہ ذاتی رنجش کا شاخسانہ ہے۔
واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظرِ عام پر آ گئی ہے، جس میں ملزم کو گھر سے نکل کر موٹر سائیکل پر سوار ہو کر انتہائی تیز رفتاری سے فرار ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیج میں فائرنگ کے بعد گھر سے چیخ و پکار کی آوازیں بھی سنائی دیں، جس کے بعد اہل محلہ بھی گھروں سے باہر نکل آئے۔
زخمی ہونے والے 12 سالہ زید نے پولیس کو دیے گئے ابتدائی بیان میں بتایا کہ وہ دوسرے کمرے میں موجود تھا جب فائرنگ کی آواز آئی۔ اس نے مزید کہا کہ جب وہ باہر آیا تو دیکھا کہ اس کی والدہ پر فائرنگ کی گئی تھی۔
زید کے مطابق، ملزم نے اس کے سر پر بھی اسلحہ مارا، تاہم وہ حملہ آور کو نہیں پہچانتا۔ پولیس زخمی بچے کے بیان کی روشنی میں مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ ملزم تک پہنچا جا سکے۔
پولیس نے مقتولہ کے دیگر اہل خانہ سے بھی معلومات حاصل کرنا شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔
اسٹیل ٹاؤن پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرنے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ مقتولین کی لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کیا جائے گا۔
علاقے میں اس واقعے کے بعد خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور پولیس نے جائے وقوع کے اطراف میں بھی نگرانی بڑھا دی ہے۔ تفتیشی ٹیمیں اس بات کا تعین کرنے میں مصروف ہیں کہ ملزم کس راستے سے فرار ہوا۔
پولیس کے مطابق، ملزم نے گھر میں داخل ہو کر کسی قسم کی مزاحمت کا موقع دیے بغیر فائرنگ کی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم پہلے سے ہی کسی خاص مقصد کے تحت آیا تھا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی حقائق مزید واضح ہو سکیں گے۔


اپنی رائے دیں