عالمی گولف کی دنیا میں ایک بڑے باب کا اختتام ہونے جا رہا ہے، جہاں متنازعہ گولف لیگ 'لیو گولف' (LIV Golf) نے اپنے آپریشنز کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ لیگ کی جانب سے 2027 میں دوبارہ شروع ہونے کے منصوبے 'لیو 2.0' (LIV 2.0) کی ناکامی کے بعد کیا گیا ہے۔
نیو جرسی کی دیوالیہ پن کی عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران لیگ کے وکلاء نے تصدیق کی کہ وہ اب اس منصوبے کو آگے نہیں بڑھا رہے ہیں۔ لیگ کے وکیل میتھیو ولیمز نے عدالت کو بتایا کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے حمایت واپس لینے کے بعد اب اثاثوں کو فروخت کرنے (لیکویڈیشن) کا عمل پیر سے شروع کیا جائے گا۔
اس پیش رفت کی بنیادی وجہ سرمایہ کاری فرم 'بی سی پارٹنرز کریڈٹ' (BC Partners Credit) کا لیگ سے دستبردار ہونا ہے۔ اس فرم نے لیگ کی تنظیم نو کے لیے 30 کروڑ ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا تھا، تاہم کھلاڑیوں کی جانب سے مطلوبہ دلچسپی نہ ملنے پر انہوں نے معاہدے سے ہاتھ کھینچ لیے۔
لیو گولف کے سی ای او اسکاٹ اونیل نے ایک بیان میں کہا کہ یہ لیگ ان کے لیے 'زندگی کا بہترین تجربہ' رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 2021 میں قیام کے بعد سے اس لیگ نے پانچ براعظموں میں انفرادی اور ٹیم مقابلوں کے ذریعے گولف کے کھیل کو نئے اور نوجوان شائقین تک پہنچانے کی کوشش کی۔
لیگ کے مالی حالات اس وقت شدید بحران کا شکار ہوئے جب سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) نے رواں سال اپریل میں اپنی فنڈنگ روکنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس فنڈ نے اس منصوبے میں تقریباً 5 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی تھی۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق لیو گولف پر اس وقت تقریباً 50 کروڑ سے ایک ارب ڈالر تک کے واجبات ہیں جو تقریباً ایک ہزار قرض دہندگان کو ادا کرنے ہیں۔ عدالت میں 9 نومبر تک ایک باضابطہ ونڈ ڈاؤن پلان جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
لیگ کے خاتمے کی ایک بڑی وجہ نامور کھلاڑیوں کا انخلاء بھی رہا۔ جان رہم اور سرجیو گارسیا سمیت کئی بڑے ناموں کے لیگ چھوڑنے کے بعد اس کا مستقبل مزید غیر یقینی ہو گیا تھا۔
پس منظر کے طور پر لیو گولف کا قیام 2021 میں عمل میں آیا تھا جس نے پروفیشنل گولف کے روایتی ڈھانچے کو چیلنج کیا تھا۔ اس لیگ کے قیام کے بعد سے گولف کی دنیا میں شدید تقسیم پیدا ہو گئی تھی اور اس میں شامل ہونے والے کھلاڑیوں کو دیگر ٹورنامنٹس سے پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔



اپنی رائے دیں