مواد پر جائیں
پیر، 2 نومبر 2026 22 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
لاہور پولیس کا کریک ڈاؤن، 242 ملزمان گرفتار اور سامان برآمدپی ٹی آئی کارکنوں کی تھری ایم پی او گرفتاریوں کا معاملہ آئینی عدالت میںکراچی میں مختلف مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتارامریکہ: فلوریڈا میں کاروباری طیارہ گرنے سے 9 افراد ہلاکسعودی عرب کی جانب سے پاکستانی افرادی قوت کی خدمات حاصل کرنے میں اضافہدماغی سرطان کے علاج میں اہم پیشرفت، نئی تجرباتی تکنیک تیارکیمی اینٹونیلی فارمولا ون کے کم عمر ترین عالمی چیمپئن بن گئےامریکی ریاست فلوریڈا میں نجی طیارہ گر کر تباہ، 9 افراد ہلاکمیکائیل علی بیگ نے آئی ٹی ایف جے 100 ٹینس ٹورنامنٹ کا ٹائٹل جیت لیاکراچی میں ترقیاتی منصوبوں کی سست روی پر پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کا اظہارِ تشویشگلگت بلتستان کا 79 واں یومِ آزادی، سیاسی قیادت کا خراجِ تحسینفرانس: پولیس پر پیٹرول بم حملے کی تحقیقات شروع، اقدامِ قتل کا مقدمہ درجایم کیو ایم پاکستان کا نئے صوبوں کے قیام کیلئے تحریک چلانے کا اعلانکوئٹہ میں گیس بلوں میں اضافے کی وجوہات اور شکایات کے ازالے کیلئے اقداماتحکومت کا پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے لیے نئے فارمولے کا اطلاقامریکی ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹ رہنما کی ریپبلکن امیدوار کی حمایتیوکرین میں روسی حملوں سے بجلی کا نظام درہم برہم، درجنوں علاقے تاریکی میں ڈوب گئےجی سکل کی 32 جی بی ڈی ڈی آر 5 ریم کی قیمت میں کمی کا اعلانانگلش پریمیئر لیگ: آرسنل نے لیورپول کو شکست دے کر پوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن سنبھال لیاداکارہ جویریہ جمشید رشتہ ازدواج میں منسلک، سوشل میڈیا پر چرچے
سیاست

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ مسترد، بیرسٹر گوہر اور ناصر عباس کا اظہارِ خیال

اپوزیشن رہنماؤں نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شہریوں کو متاثر کرنے والے آپریشنز کی حمایت سے انکار کر دیا۔

ملکی سیاسی منظر نامے میں حالیہ پیش رفت کے دوران اپوزیشن کے سرکردہ رہنماؤں نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی حالات کے نفاذ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اس حوالے سے بیرسٹر گوہر اور علامہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے ان اقدامات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے انتظامی فیصلے صوبے کی منتخب حکومت کو کمزور کرنے اور سیاسی انتقام کا تسلسل ہیں۔

رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں دو تہائی اکثریت رکھنے والی حکومت کو اس طرح سے ہٹانا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک پہلے ہی سنگین نوعیت کے معاشی اور سلامتی کے چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں متنازعہ اقدامات سے وفاق کی اکائیوں میں مزید خلیج پیدا ہوگی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس نوعیت کے فیصلوں سے صوبے کے کروڑوں نوجوانوں کو کیا تاثر مل رہا ہے۔

بیرسٹر گوہر اور علامہ ناصر عباس نے زور دیا کہ ملک بھر میں قانون کی بالادستی اور آئین کا احترام ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل جبر یا انتظامی تسلط میں نہیں بلکہ باہمی افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے بتایا کہ ان کے سینکڑوں کارکن پہلے ہی جیلوں میں بند ہیں اور سیاسی جبر کا بازار گرم کیا جا رہا ہے۔

گفتگو کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عام شہریوں کو کسی بھی قسم کے عسکری آپریشنز یا کارروائیوں میں نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ عام شہریوں کو متاثر کرنے والی کسی بھی کارروائی کی حمایت نہیں کریں گے۔ امن و امان کی بحالی کے لیے قومی عزم اور نیشنل ایکشن پلان پر حقیقی روح کے مطابق عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں نے حکمران اتحاد کو کڑی تنقید کا ہدف بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے انتخابات میں اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کیا تھا لیکن اس کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور ملک کو مزید بحرانوں سے بچانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

پاکستان کے سیاسی اور جمہوری ڈھانچے میں وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ موجودہ حالات میں جب ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، آئینی حدود کا پاس رکھنا ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ غیرمعمولی اقدامات سے ملک میں سیاسی استحکام کی بجائے مزید ابتری پھیلنے کا اندیشہ ہے۔

ملک میں قانون کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے بھی اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی کارکنوں پر درج جھے مقدمات ختم کیے جائیں اور جیلوں میں قید افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ان کے مطابق پندرہ سو سے زائد کارکنان اس وقت پنجاب کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔

مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پچھلے چند روز کے دوران بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے کئی مواقع ضائع کیے گئے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر سنجیدہ نیت کے ساتھ مذاکرات کیے جاتے تو آج یہ نوبت نہ آتی۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاست میں دروازے کبھی بند نہیں ہونے چاہئیں اور مکالمہ ہی تمام مسائل کی بنیادی کنجی ہے۔

امن و امان کے قیام کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس قومی لائحہ عمل کو اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کیا جانا چاہیے۔ ان کا ماننا تھا کہ مخصوص سیاسی مفادات کے لیے سکیورٹی اداروں کو استعمال کرنے سے ملک کو اندرونی طور پر کمزور کیا جا رہا ہے جس سے صرف دشمن عناصر کو فائدہ پہنچتا ہے۔

موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی اور معاشی بدحالی نے عام آدمی کا جینا محال کر رکھا ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے حکومت تمام تر توجہ سیاسی مخالفین کو دبانے پر مرکوز کیے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے جنہیں مسترد کیا وہ آج اقتدار پر قابض ہیں۔

اس موضوع پر مزید خبریں

سیاست کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں