مواد پر جائیں
پیر، 2 نومبر 2026 22 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
کراچی: صدر میں مسافر بس کی ٹکر سے سڑک کنارے کھڑا شہری جاں بحقمیکائیل علی بیگ نے آئی ٹی ایف جے 100 ٹینس ٹورنامنٹ کا ٹائٹل جیت لیاکراچی میں ترقیاتی منصوبوں کی سست روی پر پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کا اظہارِ تشویشگلگت بلتستان کا 79 واں یومِ آزادی، سیاسی قیادت کا خراجِ تحسینفرانس: پولیس پر پیٹرول بم حملے کی تحقیقات شروع، اقدامِ قتل کا مقدمہ درجایم کیو ایم پاکستان کا نئے صوبوں کے قیام کیلئے تحریک چلانے کا اعلانکوئٹہ میں گیس بلوں میں اضافے کی وجوہات اور شکایات کے ازالے کیلئے اقداماتحکومت کا پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے لیے نئے فارمولے کا اطلاقامریکی ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹ رہنما کی ریپبلکن امیدوار کی حمایتیوکرین میں روسی حملوں سے بجلی کا نظام درہم برہم، درجنوں علاقے تاریکی میں ڈوب گئےجی سکل کی 32 جی بی ڈی ڈی آر 5 ریم کی قیمت میں کمی کا اعلانانگلش پریمیئر لیگ: آرسنل نے لیورپول کو شکست دے کر پوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن سنبھال لیاداکارہ جویریہ جمشید رشتہ ازدواج میں منسلک، سوشل میڈیا پر چرچےبال ٹی مور ریونز کے کوارٹر بیک لامر جیکسن انگوٹھے کی انجری کے باعث میچ سے باہرکراچی کو جیل قرار دینے پر حنا پرویز بٹ کی حنا الطاف کو لاہور آنے کی دعوتسعودی عرب کی جانب سے پاکستانی ورکرز کی خدمات حاصل کرنے میں دلچسپیبائنانس کا ہیکنگ کے بعد رقوم کی واپسی کا عمل شروع، 95 فیصد اثاثے بحالالاسکا سینیٹ انتخاب: امیدواروں کے ناموں میں مماثلت پر تنازعہ شدت اختیار کر گیاپاکستان آرمی ڈرون ٹیکنالوجی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے: ڈی جی آئی ایس پی آرپاکستان کرکٹ بورڈ: سینٹرل کنٹریکٹس میں نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کرنے کا فیصلہ
سیاست

ایم کیو ایم پاکستان کا نئے صوبوں کے قیام کیلئے تحریک چلانے کا اعلان

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے 29 نومبر کو شارع فیصل پر مارچ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے وقت کی ضرورت ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کا نئے صوبوں کے قیام کیلئے تحریک چلانے کا اعلان

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک باقاعدہ تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں 29 نومبر کو کراچی میں شارع فیصل کی جانب ایک بڑا قافلہ مارچ کرے گا۔

یہ اعلان ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پی آئی بی کالونی میں منعقدہ جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نئے صوبوں کی سب سے زیادہ ضرورت سندھ کے شہری علاقوں میں ہے، جہاں آبادی کے تناسب سے انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم عوامی حقوق کے حصول کے لیے سڑکوں پر نکلے گی اور اب اپنی منزل حاصل کر کے دم لے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا اختیار اور اقتدار عام عوام تک پہنچانا ان کی جدوجہد کا بنیادی مقصد ہے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار نے کہا کہ انتظامی یونٹس کا مطالبہ لسانی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 18 برسوں میں صوبائی حکومت کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے اور اب ملک کو اندرونی طور پر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

ایم کیو ایم کے سینئر رہنما وسیم اختر نے بھی شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام اب اپنے حقوق کے لیے بیدار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک صرف ایک شہر تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کی گونج اسلام آباد تک سنائی دے گی۔

اجلاس کے شرکاء نے قیادت کے اس فیصلے کی تائید کی اور نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے پر مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ ایم کیو ایم کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے مزید فیصلے بعد میں کیے جائیں گے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اپنے خطاب میں ماضی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 30 ستمبر 1986 کو حیدرآباد میں مہاجروں کا قتل عام ہوا، تاہم ان مشکلات کے باوجود تحریک نہیں رکی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہندوستان میں اپنی زمینیں پاکستان کے نام پر قربان کیں اور اب اپنے حصے کی زمین کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ایم کیو ایم کے چیئرمین نے مزید کہا کہ پاکستان میں غیر مسلموں کی چھوڑی ہوئی متروکہ جائیدادیں قانونی طور پر ان کی ہیں اور وہ اپنے حقوق کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 29 نومبر کو نکلنے والا قافلہ شارع فیصل کے تمام راستوں کو مسدود کر دے گا۔

فاروق ستار نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی 26 کروڑ عوام مسلسل ناانصافیوں کا شکار ہیں اور 18ویں ترمیم کے باوجود ملک کی شرح نمو میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ چار صوبے چند سو خاندانوں کی شراکت داری بن کر رہ گئے ہیں، جس سے موروثی سیاست کو فروغ ملا ہے۔

فاروق ستار نے واضح کیا کہ انتظامی یونٹس کا مطالبہ سندھ کی ثقافت یا زبان کے خلاف نہیں ہے، بلکہ کراچی میں رہنے والے پختون، بلوچ، گلگتی اور بلتی سمیت تمام شہری ایک بہتر انتظامی نظام کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی یونٹ بننے کے بعد بھی وہ اپنی ثقافتی شناخت برقرار رکھیں گے۔

وسیم اختر نے اس موقع پر پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو کو آ کر دیکھنا چاہیے کہ یہ صرف ضلع شرقی کے کارکنان کا اجتماع ہے، جبکہ پورا کراچی ابھی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار اگر کردار کا حامل ہو تو کارکن اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

اجلاس کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایم کیو ایم پاکستان کا مقصد ملک میں موروثی سیاست کا خاتمہ کرنا ہے تاکہ اقتدار عام آدمی تک پہنچ سکے۔ قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ظالموں کے خلاف مظلوموں کی صف بندی کریں گے۔

آخر میں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہمیں ایسی جمہوریت کی ضرورت نہیں جس کے ثمرات عام عوام تک نہ پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو ایوانوں کی ضرورت نہیں بلکہ ایوانوں کو ان کی ضرورت ہے، اور وہ اپنی منزل حاصل کر کے دکھائیں گے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

سیاست کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں