پاکستان نے اپنے پہلے دیسی ساختہ فضائی میزائل فعاذ کا کامیاب فلائٹ ٹیسٹ مکمل کر لیا ہے جسے ملکی دفاعی صلاحیتوں کے فروغ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق یہ تجربہ منگل کے روز کیا گیا جس میں میزائل کی تکنیکی صلاحیتوں کا بھرپور جائزہ لیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ میزائل جدید ترین ٹرمینل گائیڈنس سسٹم سے لیس ہے جو زیادہ فاصلے پر موجود دشمن کے فضائی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بیان کے مطابق اس نئے ہتھیار کی شمولیت سے پاک فضائیہ کی آپریشنل لچک میں نمایاں اضافہ ہوگا اور ملکی دفاعی ڈھانچہ مزید مستحکم ہوگا۔
فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ کامیاب تجربہ پاکستانی دفاعی صنعت کی تکنیکی پختگی، جدت اور خود انحصاری کا واضح ثبوت ہے۔
اس پرواز کے تجربے کی تقریب میں پاک فوج کے سینئر افسران کے علاوہ اس میزائل کو ڈیزائن کرنے والے سائنسدانوں اور انجینئرز نے بھی شرکت کی۔
صدر مملکت، وزیراعظم، آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور تمام سروسز چیف نے اس بڑی کامیابی پر متعلقہ سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد پیش کی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اس موقع پر پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ دفاعی شعبے میں یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی طور پر تیار کردہ فعاذ میزائل کا کامیاب تجربہ دفاعی شعبے میں اہم پیش رفت ہے اور پاکستان کے مایہ ناز سائنسدانوں اور انجینئرز پر ہم سب کو فخر ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ہمارے سائنسدانوں اور انجینئرز نے ایک بار پھر یہ شاندار کارنامہ انجام دیا ہے جس سے ملک کا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔
اس سے قبل رواں ماہ کے دوران پاک فوج نے اپنے توسیع شدہ رینج کے فتح ٹو ہائپرسونک بیلسٹک میزائل کا بھی کامیاب تجربہ کیا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فتح ٹو جدید ترین نیویگیشن اور اسٹیٹ آف دی آرٹ ای وی ون کس سے لیس ہے جو ہائی پریزیشن کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
فوج کے مطابق یہ میزائل اپنے منفرد ٹراجیکٹری اور مینوور ای بل ٹی کی بدولت دشمن کے میزائل ڈیفنس سسٹمز کو ناکام بنانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
اس تجربے سے فتح میزائل کی توسیع شدہ رینج کا مزید پتا چلا جس سے فوج کی گہرے اہداف تک پہنچنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
اس سے ایک ہفتہ قبل دیسی ساختہ فتح فور گراؤنڈ لانچڈ کروز میزائل کا بھی ایکسٹینڈڈ ورژن کامیابی سے ٹیسٹ کیا گیا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق وہ ہتھیار جدید ای وی ون کس اور نیویگیشنل ایڈز سے لیس تھا جو طویل فاصلے پر انتہائی درستگی اور مہلکیت کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنا سکتا تھا۔
اس کروز میزائل کے تجربے کے دوران اس کے مختلف سب سسٹمز کے تکنیکی پیرامیٹرز کی بھی توثیق کی گئی تھی تاکہ اس کی درستگی اور بقا کو بہتر بنایا جا سکے۔
ستمبر دو ہزار پچیس میں بھی پاکستان آرمی نے فتح فور کا سات سو پچاس کلومیٹر رینج کے ساتھ ایک کامیاب تربیتی لانچ کیا تھا۔
وہ میزائل دشمن کے میزائل ڈیفنس سسٹمز سے بچنے کے لیے ٹیرین ہگنگ کی صلاحیت رکھتا تھا تاکہ انتہائی درستگی کے ساتھ اپنے اہداف کو نشانہ بنا سکے۔


اپنی رائے دیں