مواد پر جائیں
اتوار، 11 اکتوبر 2026 30 ربیع الثانی 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 4:36
بریکنگ
اسلام آباد: گولڈ میڈلسٹ طالبہ سے فراڈ کرنے والا ملزم گرفتار
پاکستان

خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ حل نہیں، مولانا فضل الرحمان

سربراہ جے یو آئی نے وفاقی حکومت کو سیاسی مذاکرات پر زور دیا جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے مشروط حمایت کا عندیہ دے دیا۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ حل نہیں، مولانا فضل الرحمان

خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ اس حوالے سے سیاسی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو چکا ہے کہ آیا وفاقی حکومت کو آئینی طور پر صوبائی معاملات میں مداخلت کرنی چاہیے یا نہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدامات دہشت گردی کے خاتمے کا حل نہیں ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مابین بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسائل کا حل سیاسی بات چیت میں مضمر ہے، جس کے لیے وہ جلد اپنی پارٹی کی کور کمیٹی اور اپوزیشن رہنماؤں کو اعتماد میں لیں گے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے میں گورنر راج کی مشروط حمایت کا اظہار کیا ہے۔ سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ گورنر راج جمہوری طور پر ناپسندیدہ ہے، لیکن آئینی طور پر یہ غلط اقدام نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنا موقف واضح کریں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی گورنر راج کی خواہشمند نہیں ہے، تاہم ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں پی ٹی آئی کو سوچنا ہوگا کہ وہ ملک کو کس طرف لے جا رہے ہیں۔

آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت صدر مملکت کو ملک یا کسی حصے میں داخلی انتشار کی صورت میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری ہے، جبکہ اس اعلان کو پارلیمنٹ سے بھی منظور کروانا پڑتا ہے۔

آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کا نفاذ تب کیا جاتا ہے جب صوبائی حکومت آئین کے مطابق چلنا ممکن نہ رہے۔ اس صورت میں وفاقی حکومت صوبے کے انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے، تاہم یہ اقدام پارلیمانی نگرانی کا پابند ہوتا ہے۔

آئینی ماہرین کے مطابق ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت صوبائی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر سکتی ہے۔ تاہم یہ اقدامات ہائی کورٹ کے آئینی اختیارات کو ختم نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کا نفاذ وفاقی کابینہ ازخود کر سکتی ہے۔

آئین کا آرٹیکل 236 ان صدارتی اعلانات کو ایک خاص حد تک تحفظ فراہم کرتا ہے، تاہم سپریم کورٹ ماضی میں پیر صابر شاہ کیس کے فیصلے میں یہ اصول طے کر چکی ہے کہ بدنیتی یا آئینی حدود سے تجاوز پر عدالتی مداخلت ممکن ہے۔

خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر وفاقی وزیر داخلہ اور گورنر خیبر پختونخوا نے صدر مملکت سے ملاقات کر کے بریفنگ بھی دی ہے۔ اس ملاقات میں صوبے کے انتظامی امور اور سکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ گورنر راج کا فیصلہ ایک انتہائی اقدام ہوگا جس کے دور رس سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ وفاقی حکومت اس معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔

سینیٹر ایمل ولی خان نے بھی صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت سے معذرت کر لی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے مابین اس حساس معاملے پر تاحال کوئی متفقہ رائے موجود نہیں ہے۔

ملک کی موجودہ سیاسی و سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ وفاقی حکومت آئینی راستوں کا انتخاب کرتی ہے یا سیاسی مذاکرات کے ذریعے بحران کا حل نکالتی ہے۔ تمام تر نگاہیں اب حکومتی فیصلوں پر مرکوز ہیں۔

یہ خبر ڈیلی پاکستان آن لائن کے نیوز روم نے اصل رپورٹنگ کی بنیاد پر اپنے الفاظ میں لکھی ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں