تہران میں عسکری حکام کی جانب سے انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ بھرپور جنگ چھڑ نے کی صورت میں اس کا انجام توقع سے زیادہ طویل اور مہنگا ہو سکتا ہے۔ ایرانی مسلح افواج کے ترجمان کے مطابق خطے کے اندر اور باہر ممکنہ جارحیت کے خلاف فوری اور سخت جوابی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر حسین کانی مقدم نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ رواں سال کے اوائل میں ہونے والے حملوں کے بعد اب عسکری صلاحیتوں اور نشانے کی درستگی میں بہتری لائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میزائلوں کے وار ہیڈز اور رینج میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ڈرون ٹیکنالوجی کو بھی وسعت دی گئی ہے۔
فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے بتایا کہ امریکی فوجی برتری کا مقابلہ کرنے کے لیے روایتی جنگ کے بجائے غیر روایتی جنگی حربے استعمال کیے جائیں گے۔ عسکری معاہدے کے بعد ملنے والے وقفے کے دوران نئی عسکری ساز و سامان اور حکمت عملی کو فوج کا حصہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع جلد کسی نہ کسی انجام کو پہنچ جائے گا اور تہران کو کسی سمجھوتتے پر راضی ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید خبردار کیا کہ بصورت دیگر سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
خفیہ رپورٹس کے مطابق رواں سال کے دوران بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود دفاعی ضروریات کے لیے مختلف ممالک سے راکٹ پروپیلنٹ، دھماکہ خیز مواد اور دیگر ساز و سامان حاصل کیا گیا ہے۔ تہران میں حکام کا دعویٰ ہے کہ دفاعی نظام اور ڈرون پروڈکشن لائنوں کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔
تہران اور دیگر شہروں میں عام شہریوں کی حفاظت کے لیے اب تک پناہ گاہوں اور ارلی وارننگ سسٹمز کی تیاری میں کسی خاص پیشرفت کی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔ معاشی بحران کے اس دور میں بجلی کا نظام، تیل اور گیس کی تنصیبات اور مواصلاتی رابطے دوبارہ حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔
سابقہ جھڑپوں کے دوران اعلیٰ سیاسی اور عسکری شخصیات کی ہلاکتوں کے بعد سے ملک میں اندرونی سیکیورٹی کے سخت انتظامات نافذ کیے گئے ہیں۔ تہران کے مطابق حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کو ممکنہ آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں بریفنگ دی گئی ہے۔
پارلیمانی قومی سلامتی کمیشن کے رکن اسماعیل کوثری کا مؤقف ہے کہ دشمن عناصر کا مقصد اسلامی جمہوریہ کا خاتمہ اور ملک کو تقسیم کرنا تھا جو پورا نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی انتخابات سے قبل نفسیاتی کارروائیوں کے ذریعے فتح کا تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔



اپنی رائے دیں