مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور خطے میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کے براہِ راست اثرات اب پاکستان کے توانائی اور تیل کے شعبے پر بھی مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی معروف تیل کمپنی آرامکو کے پاس پاکستان میں موجود پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔
اس ذخیرے کے اختتام کے بعد ملک بھر میں قائم اس کمپنی کے تمام پیٹرول پمپس اور فیول اسٹیشنز پر ایندھن کی فروخت غیر معینہ مدت کے لیے روک دی گئی ہے۔
ترقیاتی امور پر نظر رکھنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور سعودی تنصیبات پر حوثیوں کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے بعد سے تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔
انہی حملوں اور رس رسائی میں رکاوٹوں کی وجہ سے پاکستان کے لیے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی باقاعدہ سپلائی فی الحال معطل ہو کر رہ گئی ہے۔
اس سپلائی کی بندش کا سب سے زیادہ اثر بڑے تجارتی شہر کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں قائم آرامکو کے فیول اسٹیشنز پر پڑا ہے۔
مختلف شہروں میں قائم ان پمپس کا رخ کرنے والے عام صارفین کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب انہیں ایندھن کی مکمل عدم دستیابی کی اطلاع ملی۔
فیول اسٹیشنز پر پہنچنے والے شہریوں نے جب پمپ کے عملے سے اس اچانک بندش کی وجہ جاننا چاہی تو عملے کی جانب سے صورتحال واضح کی گئی۔
پمپس کے عملے نے صارفین کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ سے ایندھن کی سپلائی معطل ہونے کے باعث ہمارے پاس موجود پیٹرول کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔
عملے کی جانب سے صارفین کو مزید یہ بھی بتایا گیا کہ اس وقت یہ بالکل معلوم نہیں ہے کہ تیل کی سپلائی کا یہ سلسلہ کب اور کس وقت بحال ہوگا۔
ملک کے مختلف علاقوں میں صارفین مایوس ہو کر دوسرے برانڈز اور کمپنیوں کے فیول اسٹیشنز کا رخ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں تاکہ اپنی گاڑیوں کے لیے ایندھن کا بندوبست کر سکیں۔
تجارت اور معیشت سے وابستہ ماہرین کا خیال ہے کہ اس قسم کے بین الاقوامی بحران دنیا بھر کی سپلائی چین کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں جس کے اثرات مقامی منڈیوں پر بھی آتے ہیں۔
تاہم اس حوالے سے تاحال متعلقہ حکام یا کمپنی کی کسی اعلیٰ انتظامیہ کی جانب سے کوئی باضابطہ متبادل حکمتِ عملی یا وقت کا تعین سامنے نہیں آ سکا۔
شہریوں اور صارفین میں اس بات کی تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر سپلائی کا یہ تعطل طویل ہوا تو پاکستان کے دوسرے حصوں میں بھی فیول کی قلت کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
آرامکو کے ان فیول اسٹیشنز پر کام کرنے والا عملہ بھی فی الحال صارفین کو صرف یہی جواب دے رہا ہے کہ اگلی کھیپ آنے تک فروخت کی بحالی ممکن نہیں۔
مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے پاکستان کی مقامی مارکیٹ تک پہنچنے والے ان اثرات کو کاروباری حلقوں میں نہایت تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
فی الوقت پاکستان میں آرامکو کے تمام پمپس پر سناٹا چھایا ہوا ہے اور ایندھن کے حصول کے لیے آنے والے شہری مایوس ہو کر واپس لوٹنے پر مجبور ہیں۔



اپنی رائے دیں