مواد پر جائیں
منگل، 3 نومبر 2026 23 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
ٹانک میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ، چار پولیو ورکرز اغواشمالی کوریا نے بائنس ہیکنگ میں ملوث ہونے کا امریکی الزام مسترد کر دیاایڈرین ہیملٹن مانس نے پی آئی اے کے نئے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لیںساؤتھ ایشین فٹ بال چیمپئن شپ: پاکستانی کوچ نے سیمی فائنل تک رسائی کا ہدف مقرر کر لیاامریکہ نے روانڈا اور ساؤتھ افریقہ کو ایگوآ سے نکالنے کا اعلان کیاایپل اور گوگل ایپ اسٹورز پر جنسی و پُرتشدد ڈیپ فیک اے آئی ایپس کا انکشافمظفرگڑھ: وراثتی زمین کے تنازع پر بھائی نے حاملہ بہن کو قتل کردیاپاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے سالانہ اجلاس میں نئے عہدے داروں کا انتخابلاہور ہائیکورٹ کا نورین نیازی کی بیٹیوں سے ملاقات کروانے کا حکمفِیفا نے زوریخ میں کونسل اراکین کو ورلڈ کپ سیل‑آف دستاویزات تک محدود رسائی دیامریکی عدالت نے ایف بی آئی کے سابق اعلیٰ حکام کے خلاف کیس خارج کر دیامشرق وسطیٰ کی صورتحال، پاکستان میں آرامکو کے پیٹرول پمپس پر فروخت معطللاہور کے چلڈرن اسپتال میں چوہوں کی ویڈیو وائرل، انتظامیہ کا وضاحتی موقف سامنے آ گیاسانحہ پمز کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کیلئے مقررصادق محمد نے بابر اعظم کی بیٹنگ میں خامیوں کی نشاندہی کر دییوکرین اور روس میں ایئر الرٹ ایپس ہیک، جعلی ایٹمی و کیمیائی وارننگز جاریاسکردو: میاں، بیوی اور دو بچوں کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم گرفتارلاہور: نوکری کا جھانسہ دے کر شادی شدہ خاتون سے زیادتی، ایک ملزم گرفتاربھارتی ٹی وی اداکار انوج ٹھاکر 33 برس کی عمر میں انتقال کر گئےامریکا اور اسرائیل کے حملے پر ایران کا طویل اور سخت ردعمل کا انتباہ
پاکستان

پاکستان کو قطر سے ایل این جی کا دوسرا کارگو موصول، قومی خزانے پر بوجھ میں کمی

قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی ایل این جی اسپاٹ مارکیٹ کے مقابلے میں نصف قیمت پر دستیاب ہے۔

پاکستان کو قطر سے ایل این جی کا دوسرا کارگو موصول، قومی خزانے پر بوجھ میں کمی

پاکستان نے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے اور درآمدی اخراجات کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا دوسرا کارگو کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیا ہے۔ وزارت توانائی کے ذرائع کے مطابق یہ کارگو اکتوبر کے مہینے کے دوران موصول ہوا ہے جس سے ملک کے گیس سسٹم کو فراہمی کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

ملک میں توانائی کے شعبے سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ مہنگی اسپاٹ مارکیٹ سے گیس کی خریداری سے حتی الامکان گریز کیا جائے۔ اس حکمت عملی کا مقصد قومی خزانے پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کرنا اور عوام کو سستی توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

وزارت توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق قطر کے ساتھ طے پانے والے طویل مدتی معاہدے کے تحت حاصل ہونے والی ایل این جی کی قیمت تقریباً 14 سے 15 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) کے درمیان ہے۔ اس کے برعکس عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں گیس کی قیمت 30 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ چکی ہے۔

معاہدے کے تحت ملنے والی گیس اسپاٹ مارکیٹ کے مقابلے میں تقریباً نصف قیمت پر دستیاب ہے، جو پاکستان کے لیے ایک بڑی ریلیف ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف درآمدی بلوں کو قابو میں رکھنے میں مدد ملے گی بلکہ گیس کی سپلائی چین کو بھی مستحکم بنایا جا سکے گا۔

اکتوبر کے دوران اب تک قطر سے ایل این جی کے دو کارگوز پاکستان پہنچ چکے ہیں، جنہیں ملکی نیٹ ورک میں شامل کیا جا چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اس طرح کے اقدامات کو معاشی استحکام کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر طویل مدتی معاہدے پاکستان کے لیے ایک محفوظ راستہ فراہم کرتے ہیں۔ ان معاہدوں کی بدولت ملک کو غیر متوقع قیمتوں کے جھٹکوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے گیس کی درآمد کے لیے قطر کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو توانائی کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک کلیدی پیش رفت سمجھا جاتا ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستان قطر سے گیس کی باقاعدہ سپلائی حاصل کرتا رہا ہے جو ملکی صنعتوں اور گھریلو صارفین کے لیے اہم ہے۔

وزارت توانائی کے حکام کا مزید کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی اسی طرح کی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رہے گا تاکہ توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کو فروغ دیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے عالمی منڈی کے حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

ملک کے گیس سسٹم میں ان کارگوز کی شمولیت سے گیس کے پریشر اور فراہمی میں بہتری متوقع ہے۔ حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے صارفین کو سہولت پہنچانے کا عمل مسلسل جاری ہے۔

پاکستان اور قطر کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے، جو دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس تعاون سے پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں بڑی مدد ملی ہے۔

آنے والے دنوں میں بھی حکومت کی جانب سے توانائی کے متبادل ذرائع اور درآمدی گیس کی بہتر مینجمنٹ پر توجہ مرکوز رہے گی۔ اس سلسلے میں وزارت توانائی تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ توانائی کا شعبہ فعال رہ سکے۔

مجموعی طور پر قطر سے ایل این جی کی یہ تازہ سپلائی ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے، جس سے درآمدی اخراجات میں نمایاں کمی کے ساتھ ساتھ توانائی کی فراہمی کو بھی مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

اس موضوع پر مزید خبریں

پاکستان کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں