لاہور ہائیکورٹ نے کوٹ لکھپت جیل میں نظر بند سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن نورین نیازی کی ان کی بیٹیوں سے ایک گھنٹے کی ملاقات کروانے کا حکم جاری کیا ہے۔ یہ احکامات لاہور میں ایک عدالتی سماعت کے دوران صادر کیے گئے۔
عمران خان کی بہنوں کے وکیل رانا مدثر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عدالتی کارروائی کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کے کیس میں کل ملاقات کا حکم دیا ہے۔
وکیل رانا مدثر کے مطابق عدالت نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو چار نومبر کو اپنی رپورٹ کے ہمراہ ذاتی حیثیت میں بھی طلب کر رکھا ہے۔ یہ سماعت جسٹس عبہر گل خان کی عدالت میں شاہ ریز خان اور سکینہ بی بی کی درخواستوں پر ہوئی۔
سماعت کے دوران وکیل نے عدالت کو بتایا کہ علیمہ خان، نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کی نظر بندی میں مزید توسیع کر دی گئی ہے۔ اس موقع پر سلمان اکرم راجہ نے بھی عدالت سے ایک غریب اور غیر سیاسی ڈرائیور کی نظر بندی کے معاملے پر رعایت کی استدعا کی۔
جسٹس عبہر گل خان نے ریمارکس دیے کہ دونوں کیسز کی رپورٹس طلب کی گئی ہیں جن کا جائزہ پہلے لیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ اگر ڈرائیور کا معاملہ الگ تھا تو اس کی علیحدہ درخواست دائر کی جانی چاہیے تھی۔
عدالت نے تمام متعلقہ فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیسز کی سماعت چار نومبر تک ملتوی کر دی۔ دوسری جانب وکیل رانا مدثر کی جانب سے علیمہ خان کا کیس بھی اسی روز مقرر کرنے کی درخواست منظور نہیں کی گئی۔
یاد رہے کہ عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو ستمبر کے مہینے میں حراست میں لیا گیا تھا۔ اس وقت پی ٹی آئی اسلام آباد میں ایک احتجاجی مارچ کی تیاری کر رہی تھی جب یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
علیمہ خان کو 20 ستمبر جبکہ عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو 21 ستمبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ انہیں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت بند کیا گیا تھا جس کی مدت میں بعد ازاں توسیع کی گئی۔
ابتدائی طور پر ان کی نظر بندی 30 دن کے لیے منظور کی گئی تھی، تاہم سات اکتوبر کو کوٹ لکھپت جیل میں ان کی حراست میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی گئی تھی۔
گذشتہ ماہ 26 اکتوبر کو لاہور ہائیکورٹ نے تینوں بہنوں کی رہائی کی درخواست نمٹا دی تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب پنجاب حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ان کی نظر بندی کی مدت بڑھا دی گئی ہے۔
گذشتہ ماہ نورین نیازی کی جیل میں طبیعت خراب ہونے پر انہیں لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا تھا۔ ان کے وکیل رانا مدثر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بتایا تھا کہ 70 سالہ نورین نیازی کی صحت اچانک بگڑ گئی تھی۔
خاندان اور پی ٹی آئی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس منتقلی کی اطلاع اہلِ خانہ کو نہیں دی گئی تھی۔ جماعت کی طرف سے جاری کردہ بیانات میں الزام عائد کیا گیا کہ حکام کی جانب سے صحت سے متعلق معلومات چھپائی جا رہی ہیں۔
عمران خان کے بھتیجے شیر شاہ خان نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں بتایا کہ خاندان کو ہسپتال میں نورین نیازی سے ملنے نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے وارڈ کے باہر ڈیوٹی دے کر اہلِ خانہ کو اندر جانے سے روکے رکھا۔
شیر شاہ خان نے سوال اٹھایا کہ ایک بیمار خاتون کو ہسپتال منتقل کرنے کے بعد ان کے پیاروں کو ان تک رسائی کیوں نہیں دی جا رہی۔ دوسری جانب سے اس معاملے پر حکام یا ہسپتال انتظامیہ کا فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔
پنجاب حکومت کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری سے بھی اس سلسلے میں رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ نورین نیازی کی طبی حالت کی شفاف تفصیلات فراہم کی جائیں۔
پارٹی اور خاندان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ سیاسی بنیادوں پر خاندان کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور بیمار خواتین کو جیل میں رکھنا انسانی حقوق کے منافی ہے۔ عدالت اب اس تمام صورتحال میں منگل کے روز مزید کارروائی کرے گی۔


اپنی رائے دیں