مظفرگڑھ کے علاقے میں وراثتی زمین کی ملکیت کے تنازع نے ایک سنگین خاندانی المیے کی شکل اختیار کرلی جہاں ایک بھائی نے مبینہ طور پر اپنی حاملہ بہن کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔
یہ دلخراش واقعہ جتوئی کے تھانہ کی حدود میں پیش آیا جہاں خاندانی رشتوں کا تقدس پامال کرتے ہوئے بھائی نے بہن کو زندگی سے محروم کردیا۔
پولیس حکام کے مطابق اس خونریز واقعے کا مقدمہ فوری طور پر مقتولہ کی ساس کی مدعیت میں متعلقہ تھانے میں باضابطہ طور پر درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن میں شامل تفصیلات کے مطابق مقتولہ پہلے ہی ایک بچے کی ماں تھی اور اس وقت آٹھ ماہ کی حاملہ تھی۔
ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اصل تنازعہ چار کنال سے زائد وراثتی زمین کا تھا جسے ملزم اپنے نام منتقل کرانا چاہتا تھا۔
مقدمے کے اندراج کے مطابق واقعے کے روز مقتولہ نے اپنے بھائی کی فرمائش پر قریبی دکان سے اسے کولڈ ڈرنک لا کر دی۔
کولڈ ڈرنک پینے کے فوری بعد ملزم نے اپنی بہن کے سامنے وراثتی زمین اپنے نام منتقل کرنے کا پرزور مطالبہ رکھا۔
جب مقتولہ نے اپنی وراثتی زمین بھائی کے نام کرنے سے صاف انکار کردیا تو ملزم غصے میں طیش میں آگیا۔
پولیس ریکارڈ کا حصہ بننے والی ایف آئی آر کے مطابق انکار پر مشعال میں آکر ملزم نے فائرنگ کردی اور بہن کو موقع پر ہی قتل کردیا۔
خون کی اس ہولناک واردات کے بعد ملزم موقع سے باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا جس کی تلاش جاری ہے۔
مقتولہ ممتاز مائی کی گھریلو زندگی کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ اس کا شوہر روزگار کے سلسلے میں ملک سے باہر سعودی عرب میں محنت مزدوری کرتا ہے۔
پولیس نے اس واقعے کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے ملزم کی فوری گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
علاقے میں اس بہیمانہ قتل کے بعد شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

اپنی رائے دیں