انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا نے صوبے میں ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کیلئے تمام ضلعی پولیس افسران کو تحریری آپریشنل ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ان ہدایات کا مقصد صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
جاری کردہ گائیڈ لائنز کے مطابق، کسی بھی ممکنہ مظاہرے کی صورت میں پولیس کو حفاظتی اقدامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈی پی اوز کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ضلعی سطح پر پولیس نفری کی موجودگی کو ہر صورت یقینی بنائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام ہو سکے۔
آئی جی کے پی نے ہدایت کی ہے کہ حساس مقامات پر اینٹی رائٹ، اسپیشل اسکواڈ اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے۔ اس کے علاوہ پولیس اسٹیشنز، سرکاری عمارتوں، بینکوں، پیٹرول پمپس اور تجارتی مراکز کی سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ہدایت نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ احتجاجی مظاہروں اور غیر قانونی اجتماعات کے دوران سب سے پہلے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر مذاکرات ناکام ہو جائیں تو اینٹی رائٹ اسکواڈ کو کارروائی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
مزید برآں، صورتحال کے بے قابو ہونے کی صورت میں ہوائی فائرنگ اور ربڑ کی گولیوں کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ پولیس کو حکم دیا گیا ہے کہ مظاہروں کی مکمل ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے تاکہ شواہد محفوظ رہیں اور بعد میں قانونی کارروائی میں مدد مل سکے۔
پولیس حکام نے خبردار کیا ہے کہ امن و امان میں خلل ڈالنے، سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچانے یا سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق انتہائی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کسی بھی صورت میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی اجتماع یا پُرتشدد سرگرمی کا حصہ بننے سے گریز کریں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پُرامن رہیں، قانون کی پاسداری کریں اور کسی بھی شرپسند عنصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔
آپریشنل ہدایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ رابطے اور ہم آہنگی کو بہتر بنایا جائے۔ اس سے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام اور امن و امان برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
پولیس کی جانب سے جاری کردہ ان ہدایات کا مقصد ریاست مخالف عناصر کی جانب سے املاک کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات کو روکنا ہے۔ پولیس نے عزم ظاہر کیا ہے کہ کسی بھی صورت میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے بھی خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے جس میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کیا جا سکتا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا اجلاس بھی طلب کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ کابینہ کا اجلاس کل صبح ساڑھے نو بجے طلب کیا گیا ہے جس میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ کسی بھی اشتعال انگیزی یا قانون شکنی میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا تاکہ امن قائم رہے۔
صوبائی پولیس کی جانب سے یہ اقدامات ایسے وقت میں اٹھائے گئے ہیں جب صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ امن دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔

اپنی رائے دیں