بلوچستان کے اہم ساحلی اور اقتصادی لحاظ سے انتہائی حساس شہر گوادر میں سکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور چوکسی کا شاندار مظاہرہ کیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، شہر میں امن و امان کی فضا کو سبوتاژ کرنے اور تخریبی کارروائیاں کرنے کے ناپاک عزائم رکھنے والے عناصر کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔
اس کارروائی کے دوران ریاست دشمن عناصر کی جانب سے کیے جانے والے ایک بڑے حملے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ سکیورٹی اداروں نے بر وقت اقدام کرتے ہوئے ملک دشمنوں کے منصوبے کو خاک میں ملا دیا اور جوابی کارروائی کے نتیجے میں دہشت گردوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
تفصیلات کے مطابق فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے گوادر کے علاقے میں واقع ایک نجی تعمیراتی کمپنی کے خالی کیمپ کو اپنے حملے کا نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی۔ دہشت گردوں کا مقصد اس تنصیب کو نقصان پہنچانا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا تھا لیکن وہ اپنے اس مقصد میں بری طرح ناکام رہے۔
سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے انتہائی پھرتی اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آوروں کو گھیرے میں لے لیا۔ دونوں طرف سے ہونے والی جھڑپ اور مؤثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں تین دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ شرپسندوں کے خلاف بھی گھیرا تنگ کیا جا چکا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا اس حوالے سے مزید بتانا ہے کہ فتنۃ الہندوستان کے ہلاک ہونے والے تین دہشت گردوں کے علاوہ دیگر دہشت گرد بھی سکیورٹی فورسز کی کاری ضرب کی زد میں ہیں۔ فورسز نے کامیابی کے ساتھ مزید تین دہشت گردوں کو بھی قریبی علاقے میں مکمل طور پر گھیرے میں لے رکھا ہے اور ان کا فرار ہونا اب ممکن نہیں۔
گوادر میں سکیورٹی فورسز کا یہ آپریشن صرف ایک مقام تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ کار وسیع تر ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق گوادر شاہراہ کے قریب واقع ایک مقامی ہوٹل میں بھی کچھ دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اور مصدقہ اطلاع ملی تھی جس پر فوری طور پر ایک الگ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔
اس ہوٹل کے اندر چھپے بیٹھے دہشت گردوں کے خلاف بھی بھرپور کارروائی جاری ہے اور اطلاعات کے مطابق چار دہشت گرد اس وقت سکیورٹی فورسز کے سخت محاصرے میں ہیں۔ فورسز کے اہلکار انتہائی احتیاط اور حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ کسی بھی جانی نقصان سے بچتے ہوئے تمام دہشت گردوں کو قابو کیا جا سکے۔
ان تمام جاری کارروائیوں اور سکیورٹی آپریشنز کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ خود جنرل آفیسر کمانڈنگ یعنی جی او سی گوادر میدان میں موجود ہیں۔ جی او سی گوادر خود اس پورے آپریشن کی قیادت کر رہے ہیں اور فرنٹ لائن پر رہ کر سکیورٹی دستوں کی رفاقت اور رہنمائی فرما رہے ہیں جس سے جوانوں کا مورال بھی بلند ہے۔
اعلیٰ فوجی حکمرانی اور فیلڈ کمانڈر کی براہ راست موجودگی اس بات کی غماز ہے کہ ریاست سکیورٹی کے معاملات پر کتنی سنجیدہ ہے۔ گوادر میں جاری ان کارروائیوں کا مقصد علاقے کو ہر قسم کے تخریب کاروں اور شرپسند عناصر سے مکمل طور پر پاک کرنا ہے تاکہ یہاں جاری ترقیاتی عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔
بلوچستان کے اندرونی اور ساحلی علاقوں میں ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے بیرونی اشاروں پر ناچنے والے یہ عناصر ہمیشہ سے سرگرم رہے ہیں۔ تاہم پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملک دشمن عناصر کے تمام ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
گوادر شہر اور اس کے گردونواح میں سکیورٹی کے انتظامات کو اس کامیاب کارروائی کے بعد مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل بڑھا دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی فرار ہونے والے دہشت گرد کو علاقے سے نکلنے کا موقع نہ مل سکے اور امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں رہے۔
عوامی حلقوں اور سماجی شخصیات کی طرف سے سکیورٹی فورسز کی اس بروقت کارروائی اور شاندار کامیابی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ فورسز نے جس جرأت اور پیشہ ورانہ مہارت سے دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنایا ہے وہ قابلِ فخر ہے اور پوری قوم کو اپنی فورسز پر پورا اعتماد ہے۔



اپنی رائے دیں