مواد پر جائیں
ہفتہ، 31 اکتوبر 2026 صبح 10:06 20 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 8:08
تازہ
پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز کا بھرپور جوابی ایکشن، دشمن کی پوسٹیں تباہمیونخ ایئر ڈیزاسٹر یادگار سے قیمتی اشیاء چوری، انتظامیہ کا افسوس کا اظہاراوگرا نے ایل این جی کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیااو ڈی آئی ٹرائی سیریز کا فائنل: پاکستان اور سری لنکا کل لاہور میں مدمقابلہالی وڈ اداکار بریڈ پٹ کا بچوں سے دوری کے حوالے سے جذباتی اظہارانگور اڈہ پر بلا اشتعال فائرنگ: پاک فوج کا بھرپور جوابی ایکشنامریکہ ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے قطری سفارتی وفد تہران پہنچ گیاسپین میں ہولناک ٹرین حادثے نے قبل از وقت انتخابات کا رخ بدل دیابنانس کو تاریخ کے سب سے بڑے ہیک کا سامنا، 6.3 ارب ڈالر چوریروس کے سمارا ریجن کی آئل ریفائنری پر یوکرین کا ڈرون حملہگرین بے پیکیٹرز نے کیرولینا پینتھرز کو 27-19 سے ہرا دیاجیمز اینڈرسن کا لنکاشائر سے علیحدگی پر صدمے کا اظہار، کیریئر کا مستقبل غیر یقینیفیول ریلیف اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرنے پر غور، مستفید افراد کی تعداد دو کروڑ تک بڑھانے کا امکانعظیم موسیقار خواجہ خورشید انور کی برسی پر فنی خدمات کو خراجِ تحسینایک روپے کی بھی کرپشن ثابت ہوئی تو استعفیٰ دے دوں گی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازدسمبر سے فروری تک بجلی صارفین کیلئے مشکل ترین ہونے کا خدشہخیبر پختونخوا: ٹی ایم ایز کے لیے اضافی گرانٹ، تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی لازمی قرارکراچی: جعلی پولیس مقابلے میں نوجوان کے قتل پر اہلکار کو سزائے موتخواجہ آصف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان تلخی پارلیمانی نوک جھوک ہے: رانا ثنا اللہبوسنیا: اطالوی فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 4 افراد ہلاک، 11 زخمی
صبح 10:0631 اکتوبر
پاکستان

کراچی: کے ڈی اے کے 3 ملازمین کو پلاٹ کی غیر قانونی تبدیلی پر شوکاز نوٹس جاری

کلفٹن میں رہائشی پلاٹ کو کمرشل کرنے کے معاملے پر کے ڈی اے حکام نے ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ سمیت 3 افسران سے وضاحت طلب کر لی۔

کراچی: کے ڈی اے کے 3 ملازمین کو پلاٹ کی غیر قانونی تبدیلی پر شوکاز نوٹس جاری

کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) میں زمینوں کے انتظام اور الاٹمنٹ کے معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد انتظامیہ نے کلفٹن کے ایک قیمتی پلاٹ کی حیثیت تبدیل کرنے کے معاملے پر 3 ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

یہ معاملہ کلفٹن میں واقع کے ڈی اے اسکیم 5 کے پلاٹ نمبر D-21، بلاک 8 سے متعلق ہے، جس کا رقبہ 1559.77 مربع گز ہے۔ اس رہائشی پلاٹ کو مبینہ طور پر کمرشل میں تبدیل کرنے کی کارروائی نوٹ شیٹ کے ذریعے انجام دی گئی تھی۔

کے ڈی اے سیکریٹریٹ کی جانب سے 12 اکتوبر 2026 کو جاری کیے گئے نوٹسز میں ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ سید عاطف حسین نقوی، ایڈیشنل ڈائریکٹر لینڈ راشد حسین اور جونیئر کلرک حماد سالار کو مخاطب کیا گیا ہے۔

نوٹسز کے مطابق جونیئر کلرک حماد سالار نے اس نوٹ شیٹ کا آغاز کیا اور دستخط کیے، جس کے بعد ایڈیشنل ڈائریکٹر راشد حسین نے اسے آگے بڑھایا، جبکہ ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ سید عاطف حسین نقوی نے اس پر دستخط کرکے منظوری دی تھی۔

کے ڈی اے انتظامیہ نے ان تینوں افسران سے تحریری وضاحت طلب کی ہے کہ رہائشی پلاٹ کو کمرشل میں تبدیل کرنے کا عمل کن قوانین اور ضوابط کے تحت کیا گیا اور اس میں کن قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھا گیا تھا۔

متعلقہ حکام نے ان ملازمین کو جواب جمع کرانے کے لیے 3 دن کی مہلت دی ہے۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر تسلی بخش جواب موصول نہ ہوا تو ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان شوکاز نوٹسز کی نقول ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے اور سیکریٹری کے ڈی اے سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

کے ڈی اے کے لینڈ مینجمنٹ نظام میں اس طرح کی بے ضابطگیوں پر اٹھنے والے سوالات کے بعد اب انتظامیہ کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچے اور ذمہ داروں کا تعین کرے۔

اب ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور متعلقہ افسران کی وضاحت کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ کیا یہ تبدیلی قواعد کے مطابق تھی یا اس میں کسی قسم کی ملی بھگت یا اختیارات کا غلط استعمال کیا گیا تھا۔

شہری حلقوں میں اس اقدام کو کے ڈی اے میں شفافیت لانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم حتمی نتائج انکوائری مکمل ہونے اور دستیاب ریکارڈ کی جانچ کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔

کے ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ یہ نوٹسز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ادارے میں زمینوں کے معاملات پر اب سخت نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ قیمتی سرکاری اراضی کو کسی بھی غیر قانونی اقدام سے محفوظ رکھا جا سکے۔

کراچی میں زمینوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پوش علاقوں میں پلاٹوں کی حیثیت تبدیل کروانا ایک حساس معاملہ بن چکا ہے، اور کے ڈی اے انتظامیہ اب اس طرح کے معاملات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔

ادارے کے ترجمان کے مطابق، کسی بھی ملازم کو قوانین سے بالاتر ہو کر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر تحقیقات میں کوئی بھی بے ضابطگی ثابت ہوئی تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں