پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسف زئی نے وفاقی حکومت کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کو سیاسی منظرنامے سے نکالنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ملک کی ایک بڑی اور مقبول سیاسی قوت ہے جسے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے اور اسے کسی بھی سازش کے ذریعے پسپا نہیں کیا جا جا سکتا۔
شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت پر جتنے بھی الزامات عائد کیے گئے ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں ہے اور حکمرانوں کو الزامات کی سیاست ترک کر کے زمینی حقائق کا ادراک کرنا چاہئے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکومت کو تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت کے بارے میں کسی قسم کا بھی شک ہے تو وہ ملک میں فوری طور پر آزادانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد کروا لیں۔
صوبائی رہنما نے ضلع کرک کے علاقے میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس اندمناک واقعے میں ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سمیت پولیس کے چار بہادر جوانوں کی شہادت پر پورا خیبر پختونخوا سوگوار ہے۔ انہوں نے شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک و قوم کی خاطر جانیں قربان کرنے والے یہ سپاہی ہمارے ہیرو ہیں جن کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف جاری قومی جنگ سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی اور نہ ہی عناصرِ بد کے ساتھ جماعت کا کوئی تعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوم اور تمام ادارے ایک ہی صف میں کھڑے ہیں اور پی ٹی آئی نے ہمیشہ ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کیا۔
شوکت یوسف زئی نے مزید کہا کہ وزیروں اور مشیروں کو بیانات دیتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہئے اور غیر ذمہ دارانہ گفتگو سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اس وقت ملک اتحاد اور یکجہتی کا متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ اب بند ہونا چاہئے کیونکہ اب عوام کو عملی اقدامات اور کارکردگی کی ضرورت ہے۔
صوبائی ترجمان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا کو پشاور میں بیٹھ کر صرف پریس کانفرنسیں کرنے کے بجائے کرک جا کر شہدا کے جنازوں میں شرکت کرنی چاہئے تھی اور غمزدہ لواحقین کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ زبانی جمع خرچ سے اب معاملات حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات اور متاثرہ خاندانوں کی دلجوئی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وفاق اور صوبے کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو ماضی میں مالی مشکلات اور فنڈز کی عدم دستیابی کا سامنا رہا ہے جبکہ اب وفاقی سطح پر حالات مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس کو کتنے وسائل میسر ہیں اور کون سی حکومت کس طرح عوامی خدمت کے فرائض سر انجام دے رہی ہے۔
پارٹی کے اندرونی امور کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے پارٹی میں کسی بھی قسم کے اختلافات کی خبروں کو یکسر مسترد کر دیا اور انہیں مخالفین کا پروپیگنڈا قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمانی پارٹی کے تمام فیصلے اتفاق رائے سے ہوتے ہیں اور ان فیصلوں کو غلط رنگ دینے کی شعوری کوشش کی جا رہی ہے۔
شوکت یوسف زئی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف چیئرمین بیرسٹر گوہر کی قیادت میں مکمل طور پر متحد ہے اور قومی و صوبائی اسمبلی کے تمام ارکان پارٹی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی تنظیم میں کسی قسم کی ردوبدل کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور جنید اکبر بدستور صوبائی صدر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ تحریک انصاف نے ملکی دفاع اور سلامتی پر کبھی کوئی سمجھوتا نہیں کیا اور جب بھی وطن عزیز کو کسی بیرونی یا اندرونی خطرے کا سامنا ہوا، پارٹی نے ہمیشہ ریاست اور اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ عوامی طاقت سے لیس اس جماعت کو دباؤ کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
مزید برآں، شوکت یوسف زئی نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون کتنا ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے حکمران جماعت الزامات کی سیاست میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے ہمیشہ جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کی ہے اور آئندہ بھی آئین کے دائرے میں رہ کر اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبے کے عوام نے جن لوگوں پر اعتماد کیا ہے ان کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور حکومت کو صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام سیاسی قوتیں مل کر ملک کو موجودہ چیلنجز سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کریں گی۔
آخر میں انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر آہنگ اور ہم آہنگی ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، بشرطیکہ سیاسی انتقام کی بجائے عوام کی فلاح کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پی ٹی آئی اپنے مؤقف پر قائم رہے گی اور عوامی حقوق کی جنگ ہر سطح پر لڑی جائے گی۔





اپنی رائے دیں