مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: شام 7:38
تازہ
امام الحق کو پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کھیلنے کی اجازت مل گئیبالی ووڈ اداکار اجے دیوگن کے ممبئی والے بنگلے پر کارروائیامریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کا سنڈریلا کا روپ دھارنا مداحوں کو بھا گیاپیپلز پارٹی کا لاہور میں بلدیاتی انتخابات کیلئے امیدواروں کی نامزدگی کا عمل شروعوزارتِ مواصلات میں 222 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیاں بے نقابنادرا نے شناختی کارڈ پر نام تبدیل کروانے کا آسان طریقہ کار واضح کر دیااسلام آباد: دامن کوہ کے قریب سرکاری گاڑی کی ٹکر سے خاتون سمیت دو افراد زخمیلاہور ایئرپورٹ پر سائپرس کا ٹیمپرڈ ویزا ناکام، مسافر آف لوڈدہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں تو پیپلز پارٹی تیار ہے، بلاول بھٹومحکمہ موسمیات کی پیشگوئی، ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہے گاریاضی کی دلچسپ پہیلی، کیا آپ گمشدہ ہندسہ تلاش کر سکتے ہیں؟ملک میں زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے، پاکستان کسان اتحاد کا مطالبہپاکستان کی اسی فیصد کم آمدن والی آبادی دیہی علاقوں کی مکین ہے، عالمی بینکایمنڈ کے انتخابات، اظہر عباس صدر اور طارق محمود جنرل سیکرٹری منتخباسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، سفارت کاری پر زورخیبر پختونخوا میں مائننگ لائسنسز اور مبینہ بے ضابطگیوں پر اہم انکشافاتبیوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت پر وزیر دفاع خواجہ آصف کے سوالاتنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہدہشت گردی کے نام پر سیاست نہیں ہونی چاہیے: بلاول بھٹودہشت گردی کیخلاف جنگ کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹو
پاکستان

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے پر زور

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ مشترکہ طور پر لڑنا ہوگی اور ریاست کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے پر زور

اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ دہشت گردی ایک سرخ لکیر ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام قومی اداروں اور سیاسی جماعتوں کو ایک صفحے پر آنا ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی صوبہ اپنی الگ خارجہ پالیسی نہیں چلا سکتا اور ریاست کی رٹ کو ہر صورت چیلنج سے بالاتر رکھا جانا چاہیےَ۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ کو کسی ایک ادارے یا جماعت کے بجائے اجتماعی طور پر لڑنے کی ضرورت ہے۔

شیری رحمٰن نے ماضی کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کے دفاع اور استحکام کے لیے پیپلز پارٹی نے اپنے قائدین اور کارکنوں کی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کے ان زخموں سے پارٹی نے بہت کچھ سیکھا ہے اور آئین کی بالادستی پر کبھی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔

انہوں نے اس بات کو مسترد کیا کہ پیپلز پارٹی کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت کرتی ہے جو آئین کے دائرہ کار سے باہر ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ آئین کی پاسداری کی ہے اور ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے جمہوری اقدار کو پروان چڑھایا ہے۔

سیاسی مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے سخت اقدامات کے نفاذ سے قبل سیاسی مذاکرات کو ہمیشہ ترجیح دی گئی ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن رہنما بیرسٹر گوہر مذاکرات میں کافی سنجیدہ دکھائی دیے تھے اور ان کے جذبے کا احترام کیا جانا چاہیےَ۔

شیری رحمٰن نے انکشاف کیا کہ مذاکراتی عمل کے دوران اپوزیشن کے متعدد مطالبات تسلیم کیے گئے تھے اور وہ اپنے بیشتر نکات پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہو جاتے تو سیکیورٹی اداروں اور پولیس کا کردار مزید مستحکم ہوتا۔

تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اپوزیشن خود اس سنجیدہ مذاکراتی عمل سے الگ ہو گئی اور بیرونی اثر و رسوخ نے بھی اس عمل کو بری طرح متاثر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ معاہدہ طے پا جاتا اور اس پر دستخط ہو جاتے تو بانی پی ٹی آئی کو تمام مطلوبہ سہولتیں دلانے میں پیپلز پارٹی بھی بھرپور کردار ادا کرتی۔

ماضی کی سیاسی کشمکش کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے افراد کو واپس لایا گیا تھا جس کے نتائج اب سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اب ہمیں اپنی سرزمین پر مکمل طور پر ریاستی عملداری کو بحال کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کو بھی ماضی میں جیل میں ڈالا گیا تھا لیکن اس پر کوئی ہنگامہ نہیں برپا کیا گیا۔ اسی طرح فریال تالپور کی گرفتاری کے باوجود پارٹی کی جانب سے کوئی احتجاجی لانگ مارچ یا ہڑتال نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ احتجاجی سیاست اور طویل لانگ مارچ موجودہ ملکی مسائل کا کوئی حل نہیں ہیں بلکہ اس سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال ہر شہری کو متاثر کر رہی ہے۔

دشت گردی سے متاثرہ اضلاع کا ذکر کرتے ہوئے شیری رحمٰن نے کہا کہ ان علاقوں کے عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ان کی مشکلات کا ازالہ کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ذاتی یا سیاسی مفادات کے بجائے قومی مفاد کو سب سے مقدم رکھا جانا چاہیےَ۔

انہوں نے کہا کہ قومی سانحات اور بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سیاسی اتحاد اور یکجہتی ناگزیر ہے تاکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے اور کسی کو بھی حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ بانٹنے کی ضرورت نہیں۔

اجلاس کے اختتام پر انہوں نے تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی رسہ کشی کو پسِ پشت ڈال کر ملکی مفاد میں فیصلے کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاک سرزمین کا تحفظ ہم سب کا مشترکہ فریضہ ہے اور اس مقصد کے لیے پوری قوم کو متحد ہو کر دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ہوگا۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں