ضلع خیبر اور باڑہ کے علاقوں میں پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے اور ان کے اغوا سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو انتظامیہ نے مکمل طور پر بے بنیاد اور جھوٹ قرار دے دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں حالات معمول کے مطابق ہیں۔
گزشتہ روز سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ مذکورہ علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم ہوا ہے جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے اور کچھ کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ان دعووں کی سختی سے تردید کی ہے۔
فیکٹ چیک رپورٹس کے مطابق یہ افواہیں دانستہ طور پر پھیلائی گئیں تاکہ علاقے میں بدامنی اور خوف و ہراس کی فضا پیدا کی جا سکے۔ ان خبروں کے پیچھے بعض مقامی اور غیر ملکی عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جو حالات کو خراب کرنے کے درپے تھے۔
ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ باڑہ اور ضلع خیبر کی سڑکوں پر کسی قسم کے مظاہرین موجود نہیں ہیں اور تمام تر معمولات زندگی بلا تعطل جاری ہیں۔ پولیس کی جانب سے کسی بھی قسم کے تصادم یا اہلکاروں کے اغوا کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، یہ خبریں محض پروپیگنڈا کا حصہ ہیں۔
حکام نے مزید بتایا کہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے امن و امان کو برقرار رکھا اور کسی بھی شرپسند عنصر کو حالات خراب کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انتظامیہ کے مطابق علاقے میں سیکیورٹی کے انتظامات مکمل ہیں اور عوام کو کسی قسم کی تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان غیر مصدقہ دعووں کے بارے میں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کچھ سیاسی وابستگی رکھنے والے اکاؤنٹس اور افغان عناصر نے مل کر یہ منفی مہم چلائی۔ اس مہم کا مقصد عوام میں بے چینی پھیلانا اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔
انتظامیہ نے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی کسی بھی غیر تصدیق شدہ خبر پر یقین نہ کریں۔ کسی بھی حساس معاملے پر معلومات کی تصدیق صرف مستند سرکاری ذرائع یا باخبر میڈیا اداروں سے ہی کی جانی چاہیے۔
حکام نے مزید کہا کہ افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسی گمراہ کن اطلاعات کو روکا جا سکے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسی خبروں کو آگے بڑھانے سے گریز کریں۔
ضلع خیبر میں امن و امان کی بحالی کے لیے مقامی پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے مکمل طور پر چوکس ہیں۔ کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ پوری طرح تیار ہے اور علاقے میں معمول کی سرگرمیاں بلا رکاوٹ جاری ہیں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں سوشل میڈیا کے ذریعے جعلی خبروں کا پھیلاؤ ایک چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ اس طرح کے پروپیگنڈے کا مقصد معاشرے میں انتشار پیدا کرنا ہوتا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عوام کا ہوشیار رہنا انتہائی ضروری ہے۔
انتظامیہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی افواہ پر کان دھرنے کے بجائے مقامی حکام سے رابطہ کیا جائے۔ ضلع خیبر کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ عوام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور کسی کو بھی امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حکام نے اپنے بیان میں مزید وضاحت کی کہ باڑہ میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے، اور پولیس اہلکاروں کے اغوا یا زخمی ہونے کی خبریں سراسر جھوٹ پر مبنی ہیں۔ عوام کو ایسی گمراہ کن معلومات سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
آخر میں حکام نے دوبارہ اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلع خیبر میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور کسی بھی قسم کے تصادم یا اغوا کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ پرسکون رہیں اور افواہوں پر توجہ نہ دیں۔





اپنی رائے دیں