مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی جانب سے سعودی عرب کے دفاع کے لیے پارلیمانی منظوری طلب کیے جانے کے بعد، خطے میں مصری عسکری کردار کے حوالے سے بحث اور سفارتی سرگرمیاں شدت اختیار کر گئی ہیں۔ قومی دفاعی کونسل نے سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے مقابلے میں ہر ممکنہ حمایت فراہم کرنے کی توثیق کر دی ہے، جس کے بعد ایوانِ نمائندگان میں اس معاملے پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب کے بعض اہم علاقوں اور تنصیبات پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں قاہرہ کا یہ موقف سامنے آیا ہے۔ مصری قیادت کا کہنا ہے کہ برادر ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچنے کی صورت میں تماشائی کا کردار ادا نہیں کیا جائے گا اور ریاض کو درکار سکیورٹی تعاون فراہم کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مصر کا یہ قدم خارجہ پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کے بجائے روایتی سٹریٹجک شراکت داری اور خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے تعلقات کا تسلسل ہے۔ ماضی میں بھی مصر اور خلیجی ریاستوں کے درمیان سلامتی کے امور پر قریبی تعاون جاری رہا ہے جو خطے میں استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
مختلف عسکری اور سٹریٹجک ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن کے اندر زمینی جنگ لڑنے کے لیے مصری افواج بھیجنے کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ مصر کی جانب سے ممکنہ مدد بنیادی طور پر انٹیلیجنس معلومات کے تبادلے، بحری سلامتی اور فضائی دفاعی نظام کے دائرہ کار تک محدود رہنے کی توقع ہے۔
ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ بحیرہ احمر اور باب المندب کی سلامتی مصر کے اپنے معاشی مفادات کے لیے بھی ناگزیر ہے کیونکہ نہرِ سویز سے ہونے والی تجارت کا براہِ راست تعلق خطے کے امن سے ہے۔ اس سمندری راستے کا تحفظ مصری معیشت اور زرِ مبادلہ کے حصول کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب، یمنی پارلیمان سے وابستہ بعض حلقوں نے مصر کو اس معاملے سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے جبکہ مصری حلقوں میں بھی اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ کسی بھی جارحانہ اقدام کے بجائے دفاعی نوعیت کا تعاون ہی مناسب حکمت عملی ہوگی۔ مصری آئین کے تحت ملک سے باہر کسی بھی عسکری مشن کے لیے ایوانِ نمائندگان کی دو تہائی اکثریت اور قومی دفاعی کونسل کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے۔
سنہ 2013 کے بعد سے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب نے مصر کو کثیر جہتی معاشی امداد اور مرکزی بینک میں فنڈز جمع کروا کر اہم تعاون فراہم کیا ہے۔ بعض مالیاتی ذخائر کی میعاد پوری ہونے کے قریب ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے نزدیک حالیہ دفاعی اقدامات کو براہِ راست مالی لین دین سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔
مصر اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخی بنیادوں پر استوار ہیں اور دونوں ممالک علاقائی استحکام کے لیے قریبی رابطے میں رہتے ہیں۔ سعودی عرب کے سابق فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ریاض کے پاس اپنے دفاع کے لیے کافی صلاحیتیں موجود ہیں جن میں مکہ دفاعی اتحاد جیسے پلیٹ فارمز بھی شامل ہیں، تاہم سیاسی اور سٹریٹجک سطح پر مصر کی حمایت کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
مصر اس سے قبل بھی خطے میں سکیورٹی تعاون کے مختلف معاہدوں اور بحری اتحادوں کا حصہ رہا ہے جن کا مقصد بین الاقوامی جہاز رانی اور تجارت کے راستوں کو محفوظ بنانا تھا۔ حالیہ پیش رفت کے بعد قاہرہ اور ریاض کے درمیان سکیورٹی امور پر مزید ہم آہنگی پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ علاقائی چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔
چیتھم ہاؤس کے ماہر احمد ابو دوح کا کہنا ہے کہ قاہرہ وسیع عسکری اتحادوں میں شمولیت سے گریز کرتے ہوئے خلیجی ممالک کے ساتھ دو طرفہ سٹریٹجک شراکت داری کو برقرار رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ماہرین کے مطابق مصر اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات میں حالیہ ہم آہنگی خطے کی موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے۔
العربیہ فاؤنڈیشن کے سربراہ سمیر راغب کے مطابق، مصری صدر کے حالیہ بیانات سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ قاہرہ کے دوران ہونے والی مفاہمتوں کا نتیجہ ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف علاقائی امور پر یکساں موقف پایا جاتا ہے جو کسی بھی مشترکہ لائحہ عمل کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
سعودی عرب کے سابق میجر جنرل عبداللہ غانم القحطانی کا موقف ہے کہ سعودی ریاست اپنے دفاع کے لیے درکار تمام عسکری صلاحیتیں اور دفاعی انتظامات رکھتی ہے۔ ان کے مطابق مصر کی جانب سے فراہم کیا جانے والا تعاون بنیادی طور پر سیاسی حمایت اور بحری گزرگاہوں کے تحفظ پر مرکوز ہے۔
مصری آئین کی دفعہ 152 کے تحت بیرون ملک عسکری مشن کے لیے تمام آئینی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ فیصلے کو قانونی اور ادارہ جاتی تائید حاصل ہو سکے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور معاشی تعاون کے کئی تاریخی ادوار رہے ہیں جو اس سٹریٹجک رشتے کو مزید مستحکم بناتے ہیں۔




اپنی رائے دیں