متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں دونوں ممالک نے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور علاقائی سلامتی کے امور پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خاص طور پر سمندری سلامتی کے معاملات پر تفصیلی گفتگو کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے راستوں کو محفوظ بنانا عالمی معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
اس بات چیت میں آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ ان علاقوں میں بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر دونوں ممالک نے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
فرانسیسی اور اماراتی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کا قیام خطے کے تمام ممالک کے مفاد میں ہے، جس کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تناؤ میں کمی لائی جا سکے۔
عالمی توانائی کی فراہمی کے تحفظ کے حوالے سے بھی دونوں رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ توانائی کے ذرائع کی بلا تعطل ترسیل عالمی منڈیوں کے لیے انتہائی اہم ہے، جس کے لیے سمندری راستوں کا محفوظ ہونا ضروری ہے۔
ملاقات میں دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ علاقائی چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
شیخ محمد بن زاید النہیان نے کہا کہ فرانس کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور دونوں ممالک عالمی مسائل کے حل کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے بھی خطے میں امن کے قیام کے لیے متحدہ عرب امارات کے کردار کو سراہا اور کہا کہ فرانس مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے امارات کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔
اس ملاقات کو عالمی سطح پر انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے کے اہم بحری راستوں پر سکیورٹی کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں اور عالمی طاقتیں صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے مطابق سمندری حدود کی حفاظت اور بحری جہازوں کی نقل و حمل کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ مستقبل میں بھی باہمی دلچسپی کے امور پر مشاورت جاری رکھیں گے تاکہ خطے میں دیرپا امن اور خوشحالی کے اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔
یہ شراکت داری نہ صرف دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی بلکہ اس سے عالمی سطح پر بھی امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، خاص طور پر سمندری تجارت کے تحفظ کے حوالے سے۔
متحدہ عرب امارات اور فرانس کے درمیان یہ سٹریٹجک تعاون آنے والے دنوں میں مزید وسعت اختیار کرے گا جس سے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، اقتصادی اور سیاسی تعلقات میں ایک نئی روح پھونکے جانے کی توقع ہے۔





اپنی رائے دیں