مواد پر جائیں
منگل، 20 اکتوبر 2026 9 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 5:17
بریکنگ
ضلع خیبر میں پولیس اہلکاروں کے اغوا اور تصادم کی خبریں بے بنیاد قرارسہیل آفریدی کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے، عطا تارڑملتان: جبری مشقت سے انکار پر 15 سالہ یتیم بچے کو گاڑی تلے کچل کر قتل کر دیا گیاپاکستان نے پاک ایران سرحد پر چاروں کراسنگ پوائنٹس عارضی طور پر بند کر دیےقلات اور گوادر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 4 دہشتگرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہیدلاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پانچویں نمبر پر آ گیاسعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا حوثی حملوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاقآسٹریلیا: خاتون رکن پارلیمنٹ ہیلن ہینز گاڑی کی ٹکر سے شدید زخمیایلون مسک کا 2027 میں امریکی بچوں کو اسپیس ایکس کے شیئرز تحفے میں دینے کا اعلانروس کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی پیشکشنیب کا ڈاکٹر امجد علی سمیت 5 افراد کو طلبی کا نوٹس جاریمتحدہ عرب امارات اور فرانس کا سمندری سلامتی کیلئے تعاون بڑھانے پر اتفاقانسانی ذہن کا کیمرے کی طرح کام کرنا ناممکن ہے: سپریم کورٹایکواڈور میں چرچ کے اندر بھاری صلیب گرنے سے پادری جاں بحقروس نے پاک افغان کشیدگی کے خاتمے میں تعاون کی پیشکش کر دیکراچی میں مبینہ پولیس مقابلہ، فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک ڈاکو ہلاکسعودی عرب کے دفاع کے لیے مصری پارلیمان کی منظوری، فوجی کردار پر بحث تیزاسرائیلی پارلیمانی انتخابات: سیاسی جوڑ توڑ اور مختلف جماعتوں کی پوزیشنوزیراعظم شہباز شریف کا دانش اسکولوں کے فروغ پر زورکراچی: ناردرن بائی پاس پر کار پل سے نیچے جا گری، 5 نوجوان زخمی
دنیا

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا حوثی حملوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق

سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ نے ٹیلی فونک رابطے میں خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا حوثی حملوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور حوثی باغیوں کی جانب سے کی جانے والی جارحیت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان نے سعودی عرب کی شہری تنصیبات پر حوثیوں کے حالیہ حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اسے علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ناگزیر ہے تاکہ تنازعات کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس سے قبل خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ نے بھی ایک ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی اور مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ دفاعی معاہدوں پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

خطے میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سعودی عرب نے اپنے ہوائی اڈوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہم تنصیبات کی حفاظت کے لیے اقدامات سخت کر دیے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کو ناکام بنایا جا سکے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ کے درمیان بھی علاقائی سلامتی اور استحکام کے حوالے سے اہم بات چیت ہوئی ہے جس میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔

حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف شہروں کو نشانہ بنانے کے واقعات نے خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی اور سفارتی ہم آہنگی کو مزید بڑھا دیا ہے تاکہ کسی بھی بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا یہ رابطہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے بارہا یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ عالمی برادری حوثیوں کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ کا یہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے متحد ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت کو برداشت نہیں کریں گے۔

سفارتی سطح پر جاری ان کوششوں کا مقصد نہ صرف موجودہ بحران کا حل نکالنا ہے بلکہ مستقبل میں بھی خطے کو کسی بھی قسم کی جنگی صورتحال سے محفوظ رکھنا ہے تاکہ معاشی اور سماجی ترقی کا عمل جاری رہ سکے۔

پاکستان نے بھی ماضی میں سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے اور خطے میں امن کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں خلیجی ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون مزید مستحکم ہوگا اور حوثی حملوں کے تدارک کے لیے مشترکہ حکمت عملی کو مزید موثر بنایا جائے گا۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں