مواد پر جائیں
منگل، 20 اکتوبر 2026 9 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 4:18
بریکنگ
قلات اور گوادر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 4 دہشتگرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہیدآسٹریلیا: وفاقی رکن پارلیمنٹ گاڑی کی ٹکر سے شدید زخمی، حالت تشویشناکدہشتگردی کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جانا چاہیے: نواز شریفکراچی: سائٹ ایریا میں گارمنٹس فیکٹری کے گودام میں دوبارہ آگ بھڑک اٹھیایلون مسک کا 2027 میں امریکی بچوں کو اسپیس ایکس کے شیئرز تحفے میں دینے کا اعلانروس کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی پیشکشنیب کا ڈاکٹر امجد علی سمیت 5 افراد کو طلبی کا نوٹس جاریمتحدہ عرب امارات اور فرانس کا سمندری سلامتی کیلئے تعاون بڑھانے پر اتفاقانسانی ذہن کا کیمرے کی طرح کام کرنا ناممکن ہے: سپریم کورٹایکواڈور میں چرچ کے اندر بھاری صلیب گرنے سے پادری جاں بحقروس نے پاک افغان کشیدگی کے خاتمے میں تعاون کی پیشکش کر دیکراچی میں مبینہ پولیس مقابلہ، فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک ڈاکو ہلاکسعودی عرب کے دفاع کے لیے مصری پارلیمان کی منظوری، فوجی کردار پر بحث تیزاسرائیلی پارلیمانی انتخابات: سیاسی جوڑ توڑ اور مختلف جماعتوں کی پوزیشنوزیراعظم شہباز شریف کا دانش اسکولوں کے فروغ پر زورکراچی: ناردرن بائی پاس پر کار پل سے نیچے جا گری، 5 نوجوان زخمیلاہور: گلاب دیوی اسپتال میں ڈاکٹر اور مریض کے لواحقین میں جھگڑا، دو خواتین گرفتارملتان میں گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق نوآموز الیکٹریشن کا معاملہ، ملزم توقیر کا بیان سامنے آگیاورلڈ فوڈ پروگرام نے فنڈز کی کمی پر غزہ میں امداد نصف کر دیروزانہ پھلوں کا استعمال ڈپریشن اور انزائٹی کا خطرہ کم کرتا ہے
پاکستان

روس نے پاک افغان کشیدگی کے خاتمے میں تعاون کی پیشکش کر دی

روسی سفیر نے اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرحدی کشیدگی کے جلد حل پر زور دیا۔

روس نے پاک افغان کشیدگی کے خاتمے میں تعاون کی پیشکش کر دی

روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کے خاتمے اور باہمی مسائل کے حل کے لیے تعاون کی پیشکش کر دی ہے۔ انسٹیٹوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد میں پاک روس تعلقات کے موضوع پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روس کے سفیر البرٹ پی خورئیف نے یہ اہم پیشکش کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ماسکو دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی کا جلد از جلد خاتمہ اور بند سرحدی گزرگاہوں کی بحالی دیکھنا چاہتا ہے۔

روسی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ سرحدوں کی طویل بندش سے نہ صرف دوطرفہ تجارت کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ اس کے منفی اثرات وسط ایشیائی ریاستوں اور روس کے ساتھ ہونے والے تجارتی امور پر بھی پڑ رہے ہیں۔ تجارتی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے خطے میں امن اور استحکام کا قیام انتہائی ضروری ہے تاکہ تمام فریقین معاشی فوائد حاصل کر سکیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روس میں تعینات پاکستانی سفیر فیصل ترمذی نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی طرف سے پاکستان کے اندر دراندازی کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ افغانستان اس خطے میں ایک ایسی پیچیدہ گرہ کی مانند ہے جسے پاکستان اور روس مل کر کھولنے اور سلجھانے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستانی سفیر نے شرکا کو بتایا کہ ماسکو کی طرف سے ہمیشہ افغان طالبان پر اس بات کے لیے زور دیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی صورت دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ روسی وزیر داخلہ کا حالیہ دورہ پاکستان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں کوئی اختلاف موجود نہیں۔

فیصل ترمذی نے اپنی گفتگو کے دوران اس امید کا اظہار بھی کیا کہ آئندہ برس روسی صدر ولادیمیر پیوٹن شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کی غرض سے پاکستان کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مسلسل بہتر سے بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

تقریب کے دوران سابق پاکستانی سفیر مسعود خان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو بھارت یا افغانستان کے روایتی تناظر میں دیکھنے کے بجائے ایک خود مختار اور آزاد شراکت دار کے طور پر دیکھا جائے۔ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر سفارتی رویوں میں اس تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔

پاکستان اور روس کے درمیان حالیہ برسوں میں سفارتی، تجارتی اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے متعدد مثبت اقدامات کیے گئے ہیں۔ دونوں ممالک خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مختلف امور پر باقاعدگی سے رابطے میں رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔

ماضی میں سرد جنگ کے دور کے برعکس اب اسلام آباد اور ماسکو کے تعلقات میں ایک نیا پن اور گرم جوشی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ توانائی کے شعبے بالخصوص تیل اور گیس کی فراہمی کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کے مابین مختلف سطحی رابطے اور بات چیت کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

علاقائی سلامتی کے امور پر پاکستان کا موقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ خطے میں امن کے بغیر اقتصادی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے تمام بین الاقوامی کوششوں میں بھرپور کردار ادا کیا ہے اور وہ آئندہ بھی اس سلسلے میں اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔

روس کی جانب سے پاک افغان کشیدگی کے خاتمے کے لیے تعاون کی پیشکش کو سیاسی و سفارتی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے کے بڑے ممالک کی اس نوعیت کی سفارتی مداخلت اور مصالحانہ کوششیں دیرپا امن کے قیام میں اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔

انسٹیٹوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد میں ہونے والی اس تقریب میں ملک کے ممتاز سفارت کاروں، محققین اور خارجہ امور کے ماہرین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس دوران شرکا نے پاک روس تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور مستقبل کی لائحہ عمل پر بھی روشنی ڈالی۔

خطے کے اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ روس کی اس تازہ پیشکش سے دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور تجارتی راہیں کھولنے میں مدد ملے گی۔

موجودہ سفارتی تناظر میں پاکستان اور روس کے تعلقات کا تسلسل خطے میں نئی اقتصادی اور اسٹریٹیجک راہیں استوار کرنے کا ضامن بن سکتا ہے۔ تمام متعلقہ فریقین کو اس مثبت پیش رفت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دیرپا امن اور خوشحالی کے لیے مل کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں