جنوبی امریکی ملک ایکواڈور میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کے دوران گرجا گھر کے اندر دعائیہ تقریب کے انعقاد کے وقت ایک بھاری صلیب اچانک گر گئی جس کے نتیجے میں پادری موقع پر ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق یہ حادثہ ایک مذہبی مقام پر اس وقت پیش آیا جب وہاں پادری سانچیز مولیناری اپنے فرائض منصبی انجام دے رہے تھے اور تقریب عروج پر تھی۔
مذکورہ پادری گرجا گھر کے اندر ایک بڑی اور تاریخی پینٹنگ کے بالکل سامنے کھڑے ہو کر حاضرین سے خطاب کر رہے تھے کہ اس دوران دیوار پر نصب لکڑی کا ایک بہت بڑا صلیب اچانک اپنے ہولڈرز سے نکل کر نیچے آن گرا۔ یہ ناگہانی حادثہ اس قدر اچانک اور تیز رفتار تھا کہ کسی کو بھی سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا اور بھاری وزن صلیب براہ راست پادری کے اوپر آ گرا۔
اس دردناک حادثے سے محض چند منٹ قبل ہی پادری سانچیز مولیناری نے اپنے روایتی وعظ کے دوران انسانی زندگی کی بے ثباتی اور موت کے اٹل حقیقت پر تفصیلی روشنی ڈالی تھی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا تھا کہ جدید دور کا انسان اپنی زندگی کا بیش قیمت وقت موبائل فون کی اسکرین سکرول کرنے اور ٹیلی ویژن کے سامنے ضائع کر دیتا ہے۔
مرحوم پادری کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ لوگ اپنے خالق حقیقی یعنی خدا اور اپنے انتہائی قریبی رشتہ داروں کے لیے انتہائی کم وقت نکالتے ہیں جبکہ باقی تمام بے کار مصروفیات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس دنیا میں ہر شخص کو ایک نہ ایک دن موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور یہ زندگی عارضی ہے۔
پادری سانچیز مولیناری نے حاضرین کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بعض اوقات انسان جن چیزوں پر اپنا قیمتی وقت صرف کرتا ہے ان کی اہمیت خدا کے حضور گزارے گئے لمحات کے مقابلے میں انتہائی کم ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ خدا کی رضا کے حصول کے لیے کام کرنا چاہئے۔
اپنے وعظ کے دوران انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپنے بہن بھائیوں، شریک حیات، اولاد اور دیگر اہل خانہ کو دیا جانے والا وقت ہی انسان کی زندگی کا سب سے بہترین اور قیمتی ترین وقت ہوتا ہے۔ ان کے اس پند و نصائح سے بھرپور خطاب کے فوراً بعد ہی یہ افسوسناک حادثہ پیش آ گیا جس نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔
گرجا گھر میں موجود حاضرین اور دیگر افراد نے فوری طور پر آگے بڑھ کر بھاری صلیب کو ہٹانے کی کوشش کی اور پادری کو نکالنے کی امدادی کارروائیاں شروع کیں تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ اس ناگہانی آفت نے پورے علاقے کے مسیحی بھائی چارے اور گرجا گھر کے منتظمین کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔
اس طرح کے حادثات عمارتوں کے پرانے ڈھانچے اور حفاظتی انتظامات کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتے ہیں کیونکہ تاریخی اور بڑے مقامات پر نصب بھاری بھرکم اشیاء کی دیکھ بھال انتہائی ناگزیر ہوتی ہے۔ مقامی حکام اور پولیس نے واقعے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے گرجا گھر کا معائنہ کیا ہے اور حادثے کے تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
مرحوم پادری کی ناگہانی موت کی خبر ملنے پر ان کے چاہنے والے، گرجا گھر کے ارکان اور مقامی کمیونٹی کے افراد بڑی تعداد میں جائے وقوعہ اور اسپتال کے باہر جمع ہو گئے۔ تمام لوگوں نے پادری سانچیز مولیناری کی اچانک وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور ان کی مغفرت کے لیے دعائیں کیں۔
مذہبی حلقوں کی جانب سے اس حادثے کو ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ اپنے خطبات اور سماجی خدمات کی وجہ سے مقامی آبادی میں ایک خاص مقام رکھتے تھے۔ ان کے آخری الفاظ جو انہوں نے زندگی اور موت کے حوالے سے کہے تھے اب سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا پر خصوصی طور پر زیر بحث ہیں۔
حادثے کے بعد گرجا گھر کی انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ عمارتوں کی مرمت اور تزئین و آرائش کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھا جائے گا کہ تمام بھاری اجزاء مضبوطی سے نصب ہوں۔
ایکواڈور کے اس چھوٹے سے علاقے میں اس المناک حادثے کے بعد سوگ کا سماں ہے اور مختلف مذہبی رہنماؤں نے بھی پادری سانچیز مولیناری کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ان کی آخری رسومات کے انتظامات بھی مقامی کمیونٹی کی جانب سے جلد مکمل کیے جائیں گے۔
اس افسوسناک سانحے نے نہ صرف مقامی علاقے بلکہ ملک بھر میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے اور ہر آنکھ اشک بار دکھائی دیتی ہے۔ پادری کے چاہنے والے ان کے ان آخری کلمات کو ہمیشہ یاد رکھیں گے جو انہوں نے زندگی کی حقیقت کے بارے میں کہے تھے۔





اپنی رائے دیں