اسلام آباد کی عدالت عظمیٰ نے فوجداری مقدمات میں عینی شاہدین کی گواه اور انسانی نفسیات کے حوالے سے ایک اہم اور جامع تحریری فیصلہ جاری کیا ہے جس میں قانونی تقاضوں کو واضح کیا گیا ہے۔ اس فیصلے میں عدالت نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ اچانک پیش آنے والے پرتشدد اور ہنگامہ خیز واقعات کے دوران گواہوں سے غیر معمولی اور روبوٹک کارکردگی کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر قرار دیا ہے کہ کسی بھی عینی شاہد کے لیے یہ بالکل ناممکن امر ہے کہ وہ فضا میں انتہائی تیزی سے سفر کرنے والی گولی کی حرکت کا تعاقب کرے اور یقین کے ساتھ عدالت کو بتا سکے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ گولی مقتول کے جسم کے کس مخصوص مقام پر لگی، اس کی ٹھیک اور حتمی نشاندہی کرنا ایک عام انسان کے لیے ممکن نہیں ہوتا کیونکہ ایسا مطالبہ زمینی حقائق کے منافی ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے تحریر کیے جانے والے اس فیصلے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ انسانی ذہن سے یہ توقع ہرگز نہیں کی جا سکتی کہ وہ کسی تیز رفتار کیمرے کی مانند ریکارڈنگ کرے۔
عدالت نے اس مقدمے کی مثال دیتے ہوئے لکھا کہ ایک غمزدہ بیٹا جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی والدہ کو قتل ہوتے دیکھا ہو، اس سے یہ امید نہیں لگائی جا سکتی کہ وہ پولیس کو اطلاع دینے سے قبل جائے وقوعہ پر کھڑا ہو کر معائنہ کرے۔
ایسے المناک اور صدمے کے شکار شخص کا بنیادی مقصد مجرم کو پکڑانا یا فوری مدد حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کہ لاش یا زخمی کے جسم کا تفصیلی طبی معائنہ کرنا تاکہ عدالت میں ایک ایک گولی کا حساب کتاب پیش کیا جا سکے۔
تحریری فیصلے میں اس قانونی نکتہ کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ فوجداری قانون کے تحت کسی بھی انسان کے فطری رویے اور ردعمل کو کسی ایک مقررہ یا سخت فارمولے میں محدود نہیں کیا جا سکتا ہے۔
عدالت کا ماننا ہے کہ ہر واقعے پر مختلف افراد کا ردعمل مختلف ہوتا ہے اور قانون تمام گواہوں سے ایک جیسے یا مشینی رویے کی توقع نہیں رکھتا، بلکہ حالات کے تناظر میں گواہی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
مقدمے کے پس منظر کے مطابق ملزم اظہر اور اس کے ایک شریک ملزم پر ایک خاتون کو قتل کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا تھا جس پر ماتحت عدالت نے کارروائی کی تھی۔
ٹرائل کورٹ نے اس قتل کیس کی سماعت مکمل کرنے کے بعد مرکزی ملزم اظہر کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی جبکہ نامزد شریک ملزم کو اس مقدمے سے بری کر دیا گیا تھا۔
بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی جہاں عدالت نے تمام قانونی پہلوؤں، عینی شاہدین کے بیانات اور شواہد کا از سر نو باریک بینی سے جائزہ لیا۔
عدالت عظمیٰ نے مرکزی ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے بعد اپیل خارج کر دی اور ماتحت عدالت کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے ملزم کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔
یہ فیصلہ پاکستان کے عدالتی نظام اور فوجداری مقدمات میں شہادتوں کی جانچ پڑتال کے حوالے سے ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے جو مستقبل میں دیگر مقدمات میں بھی رہنمائی فراہم کرے گا۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انصاف کی فراہمی کے دوران زمینی حقائق، انسانی نفسیات اور صدمے کے اثرات کو ہمیشہ مدنظر رکھا جاتا ہے۔
اس فیصلے سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ عدالتیں گواہوں کے معمولی اور فطری تضادات کو نظر انداز کرتی ہیں اگر بنیادی واقعہ معتبر گواہوں اور مضبوط شواہد کے ذریعے ثابت ہو جائے۔





اپنی رائے دیں