مواد پر جائیں
منگل، 20 اکتوبر 2026 9 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 4:37
بریکنگ
پاکستان نے پاک ایران سرحد پر چاروں کراسنگ پوائنٹس عارضی طور پر بند کر دیےقلات اور گوادر میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 4 دہشتگرد ہلاک، میجر وجاہت وحید شہیدآسٹریلیا: وفاقی رکن پارلیمنٹ گاڑی کی ٹکر سے شدید زخمی، حالت تشویشناکدہشتگردی کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جانا چاہیے: نواز شریفآسٹریلیا: خاتون رکن پارلیمنٹ ہیلن ہینز گاڑی کی ٹکر سے شدید زخمیایلون مسک کا 2027 میں امریکی بچوں کو اسپیس ایکس کے شیئرز تحفے میں دینے کا اعلانروس کی پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی پیشکشنیب کا ڈاکٹر امجد علی سمیت 5 افراد کو طلبی کا نوٹس جاریمتحدہ عرب امارات اور فرانس کا سمندری سلامتی کیلئے تعاون بڑھانے پر اتفاقانسانی ذہن کا کیمرے کی طرح کام کرنا ناممکن ہے: سپریم کورٹایکواڈور میں چرچ کے اندر بھاری صلیب گرنے سے پادری جاں بحقروس نے پاک افغان کشیدگی کے خاتمے میں تعاون کی پیشکش کر دیکراچی میں مبینہ پولیس مقابلہ، فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک ڈاکو ہلاکسعودی عرب کے دفاع کے لیے مصری پارلیمان کی منظوری، فوجی کردار پر بحث تیزاسرائیلی پارلیمانی انتخابات: سیاسی جوڑ توڑ اور مختلف جماعتوں کی پوزیشنوزیراعظم شہباز شریف کا دانش اسکولوں کے فروغ پر زورکراچی: ناردرن بائی پاس پر کار پل سے نیچے جا گری، 5 نوجوان زخمیلاہور: گلاب دیوی اسپتال میں ڈاکٹر اور مریض کے لواحقین میں جھگڑا، دو خواتین گرفتارملتان میں گاڑی کی ٹکر سے جاں بحق نوآموز الیکٹریشن کا معاملہ، ملزم توقیر کا بیان سامنے آگیاورلڈ فوڈ پروگرام نے فنڈز کی کمی پر غزہ میں امداد نصف کر دی
پاکستان

انسانی ذہن کا کیمرے کی طرح کام کرنا ناممکن ہے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قتل کے ایک مقدمے میں عینی شاہدین کے بیانات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔

انسانی ذہن کا کیمرے کی طرح کام کرنا ناممکن ہے: سپریم کورٹ

اسلام آباد کی عدالت عظمیٰ نے فوجداری مقدمات میں عینی شاہدین کی گواه اور انسانی نفسیات کے حوالے سے ایک اہم اور جامع تحریری فیصلہ جاری کیا ہے جس میں قانونی تقاضوں کو واضح کیا گیا ہے۔ اس فیصلے میں عدالت نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ اچانک پیش آنے والے پرتشدد اور ہنگامہ خیز واقعات کے دوران گواہوں سے غیر معمولی اور روبوٹک کارکردگی کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر قرار دیا ہے کہ کسی بھی عینی شاہد کے لیے یہ بالکل ناممکن امر ہے کہ وہ فضا میں انتہائی تیزی سے سفر کرنے والی گولی کی حرکت کا تعاقب کرے اور یقین کے ساتھ عدالت کو بتا سکے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ گولی مقتول کے جسم کے کس مخصوص مقام پر لگی، اس کی ٹھیک اور حتمی نشاندہی کرنا ایک عام انسان کے لیے ممکن نہیں ہوتا کیونکہ ایسا مطالبہ زمینی حقائق کے منافی ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے تحریر کیے جانے والے اس فیصلے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ انسانی ذہن سے یہ توقع ہرگز نہیں کی جا سکتی کہ وہ کسی تیز رفتار کیمرے کی مانند ریکارڈنگ کرے۔

عدالت نے اس مقدمے کی مثال دیتے ہوئے لکھا کہ ایک غمزدہ بیٹا جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی والدہ کو قتل ہوتے دیکھا ہو، اس سے یہ امید نہیں لگائی جا سکتی کہ وہ پولیس کو اطلاع دینے سے قبل جائے وقوعہ پر کھڑا ہو کر معائنہ کرے۔

ایسے المناک اور صدمے کے شکار شخص کا بنیادی مقصد مجرم کو پکڑانا یا فوری مدد حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کہ لاش یا زخمی کے جسم کا تفصیلی طبی معائنہ کرنا تاکہ عدالت میں ایک ایک گولی کا حساب کتاب پیش کیا جا سکے۔

تحریری فیصلے میں اس قانونی نکتہ کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ فوجداری قانون کے تحت کسی بھی انسان کے فطری رویے اور ردعمل کو کسی ایک مقررہ یا سخت فارمولے میں محدود نہیں کیا جا سکتا ہے۔

عدالت کا ماننا ہے کہ ہر واقعے پر مختلف افراد کا ردعمل مختلف ہوتا ہے اور قانون تمام گواہوں سے ایک جیسے یا مشینی رویے کی توقع نہیں رکھتا، بلکہ حالات کے تناظر میں گواہی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

مقدمے کے پس منظر کے مطابق ملزم اظہر اور اس کے ایک شریک ملزم پر ایک خاتون کو قتل کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا تھا جس پر ماتحت عدالت نے کارروائی کی تھی۔

ٹرائل کورٹ نے اس قتل کیس کی سماعت مکمل کرنے کے بعد مرکزی ملزم اظہر کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی جبکہ نامزد شریک ملزم کو اس مقدمے سے بری کر دیا گیا تھا۔

بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی جہاں عدالت نے تمام قانونی پہلوؤں، عینی شاہدین کے بیانات اور شواہد کا از سر نو باریک بینی سے جائزہ لیا۔

عدالت عظمیٰ نے مرکزی ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے بعد اپیل خارج کر دی اور ماتحت عدالت کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے ملزم کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔

یہ فیصلہ پاکستان کے عدالتی نظام اور فوجداری مقدمات میں شہادتوں کی جانچ پڑتال کے حوالے سے ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے جو مستقبل میں دیگر مقدمات میں بھی رہنمائی فراہم کرے گا۔

قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انصاف کی فراہمی کے دوران زمینی حقائق، انسانی نفسیات اور صدمے کے اثرات کو ہمیشہ مدنظر رکھا جاتا ہے۔

اس فیصلے سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ عدالتیں گواہوں کے معمولی اور فطری تضادات کو نظر انداز کرتی ہیں اگر بنیادی واقعہ معتبر گواہوں اور مضبوط شواہد کے ذریعے ثابت ہو جائے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں