مواد پر جائیں
منگل، 27 اکتوبر 2026 16 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 10:57
بریکنگ
ملتان میں زیر تعمیر پلازا کی چھت گر گئی، مزدور ملبے تلے دب گئےدبئی میں گاڑی کی منفرد نمبر پلیٹ CC44 67 لاکھ 20 ہزار درہم میں نیلاممشہور بھارتی ہدایت کار اور ‘سی آئی ڈی’ کے خالق بی پی سنگھ 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئےخیبر پختونخوا کی روایات میں گالم گلوچ کی کوئی گنجائش نہیں: شیر افضل مروتنو مئی کیس: انسداد دہشتگردی عدالت نے حماد اظہر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیااولاد نہ ہونے پر خاندان نے کبھی دباؤ نہیں ڈالا، جواد احمدعمرہ زائرین ویکسین اسکینڈل، گرفتار افسران معطل اور نیا تقررپاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 1680 ارب روپے رہ گیا: اویس لغاریانسٹاگرام کا یوٹیوب کو ٹکر دینے کیلئے 90 منٹ طویل ویڈیوز کا فیچر متعارفکوئی مجرم اپنی جماعت کا بھی ہو تو رعایت نہیں ملے گی: مریم نوازبجلی صارفین کیلئے خوشخبری، 200 سے زائد یونٹس پر اضافی چارجز ختم کرنے پر کام جاریظالم کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو، قانون کی گرفت سے نہیں بچے گا: مریم نوازکراچی میں موچکو پولیس کی کارروائی، بین الصوبائی منشیات نیٹ ورک گرفتاروالد کے خلاف سنگین الزامات پر میگھن مارکل آبدیدہ ہوگئیںسی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، انفارمیشن کوریڈور عوام کو قریب لائے گا: عطا تارڑکمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی مرکزی کمیٹی کا اجلاس، خود حکمرانی پر زورکشمیری آج یومِ سیاہ منا رہے ہیں، بھارتی تسلط کے 79 سال مکملراولپنڈی میں خاتون پر مبینہ تشدد، شوہر اور ساس سسر گرفتاررینالہ خورد: سہولت بازار میں دکانوں کی مبینہ تقسیم پر احتجاجکراچی کے ساحلی پانیوں میں 500 سے زائد ڈولفنز کا غیر معمولی اجتماع
پاکستان

شیخوپورہ: غربت سے تنگ ماں کا اپنے بچوں پر فائر، بیٹا جاں بحق

شیخوپورہ کے علاقے گھنگ روڈ پر غربت اور مہنگائی سے دل برداشتہ ماں نے اپنے دو بچوں پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں سات سالہ بیٹا موقع پر ہی دم توڑ گیا، ماں نے بھی خودکشی کر لی۔

شیخوپورہ کے علاقے گھنگ روڈ پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں غربت اور معاشی تنگی سے تنگ آ کر ایک ماں نے اپنے ہی بچوں پر گولی چلا دی۔ اس دلخراش واقعے میں سات سالہ احسن موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ چھ سالہ طیبہ شدید زخمی ہے۔

مقامی پولیس اور ریسکیو ذرائع کے مطابق گھنگ روڈ کی بستی گلی نمبر ایک میں رہائش پذیر ایک محنت کش ڈرائیور عمران کا گھر اس وقت مقتل گاہ بن گیا جب ان کی اہلیہ شازیہ نے انتہائی قدم اٹھایا۔ بچوں کی جانب سے پھل خریدنے کی ضد پر ماں نے دلبرداشتہ ہو کر یہ اقدام کیا۔

واقعے کے بعد زخمی بچی طیبہ کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک ہے۔ شازیہ نے بھی بچوں پر فائرنگ کے بعد خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

اہلِ محلہ کا کہنا ہے کہ عمران کا خاندان شدید مالی مشکلات کا شکار تھا اور گھر میں اکثر غربت کے باعث تناؤ رہتا تھا۔ شازیہ کافی عرصے سے ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار تھی جس کی وجہ سے وہ گھریلو اخراجات پورے نہ ہونے پر پریشان رہتی تھی۔

واقعے کے روز جب بچوں نے ماں سے پھل خریدنے کی فرمائش کی تو شازیہ کے پاس پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہ شدید جذباتی کیفیت میں مبتلا ہو گئی۔ اس تلخ حقیقت نے علاقے میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے۔

پاکستان میں غذائیت کی کمی اور غربت کے مسائل پر ماہرین نے بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے حال ہی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ غذائیت کی کمی ریاست کے لیے سیکیورٹی تھریٹ بن چکی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 40 فیصد بچے ذہنی اور جسمانی نشوونما کے مسائل کا شکار ہیں۔ غذائیت کی کمی سے متاثرہ بچوں کی بڑی تعداد سکول جانے کی صلاحیت سے محروم رہ جاتی ہے، جس سے انسانی وسائل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔

یونیسف اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کی رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں 2 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچے سکول جانے سے قاصر ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد پنجاب کے بچوں کی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بنیادی ضروریات تک رسائی کا فقدان عام آدمی کی زندگی کو اجیرن بنا رہا ہے۔ خوراک، صحت اور تعلیم جیسی سہولیات کا نہ ملنا معاشرے کے کمزور طبقے کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔

اس واقعے نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور معاشی عدم مساوات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے غریب طبقے کی بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں اور انہیں تحفظ ملے۔

شیخوپورہ کا یہ سانحہ محض ایک خاندانی المیہ نہیں بلکہ یہ ان تلخ حقائق کی عکاسی کرتا ہے جن کا سامنا آج بہت سے خاندان کر رہے ہیں۔ بھوک اور افلاس کی وجہ سے ہونے والی یہ اموات معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہیں۔

پولیس نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور شواہد اکٹھے کیے۔ لاشوں کو ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ زخمی بچی طیبہ ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔

علاقہ مکینوں نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غریب عوام کے لیے ریلیف کے اقدامات کیے جائیں تاکہ کوئی اور ماں غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایسا انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور نہ ہو۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں