وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ سہیل آفریدی کے خلاف دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی کرنے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے کو قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
بیرسٹر عقیل ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی اس وقت حفاظتی تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف قانون کو حرکت میں آنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی سلامتی کے معاملات پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سہیل آفریدی کے ٹھکانے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ وہ کسی شاہی مہمان خانے میں موجود ہیں، تاہم وہ کسی عام مہمان خانے میں ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ان کے حوالے سے مکمل ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
بیرسٹر عقیل ملک نے مزید کہا کہ حکومت قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور سہیل آفریدی کے معاملے میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شواہد کی موجودگی کے بعد اب عدالتی عمل ہی اس کیس کا فیصلہ کرے گا۔
ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قیاس آرائیوں پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے وضاحت کی کہ آئین میں ایمرجنسی کے حوالے سے کوئی مخصوص ٹائم فریم مقرر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی معاملات کو قانون کی روشنی میں ہی دیکھا جاتا ہے۔
وزیر مملکت نے 28 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی بھی تردید کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تاحال اس ترمیم پر کوئی باضابطہ کام شروع نہیں ہوا ہے اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی آئینی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے اور کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے پارلیمانی اور قانونی طریقہ کار کو اپنانا ضروری ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ خبروں پر کان نہ دھریں۔
بیرسٹر عقیل ملک کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور کسی کو بھی ملک دشمن سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کے معاملے میں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا موقف واضح ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
حکومت کی جانب سے اس معاملے پر سخت موقف اپنانے کے بعد اب قانونی ماہرین کی نظریں عدالت پر مرکوز ہیں۔ توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کیس سے متعلق مزید تفصیلات اور عدالتی کارروائی سامنے آئے گی۔
پاکستان کی موجودہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں بیرسٹر عقیل ملک کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی فرد یا گروہ کو ملک کے امن کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ تمام تر قانونی کارروائی شفاف طریقے سے ہوگی اور عوام کو حقائق سے آگاہ رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف اور صرف ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے۔





اپنی رائے دیں