نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے تمام شہریوں کے لیے اپنی ازدواجی حیثیت کو نادرا کے ریکارڈ میں بروقت اپ ڈیٹ کروانا لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس حوالے سے جاری کردہ ایک اہم پیغام میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی ازدواجی زندگی میں تبدیلی کے بعد اسے نادرا کے ڈیٹا بیس میں لازمی شامل کروائیں۔
ادارے کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، یونین کونسل سے کمپیوٹرائزڈ میرج سرٹیفکیٹ کا حصول پہلا قدم ہے، جس کے بعد نادرا کے دفتر سے اپنے ریکارڈ میں تبدیلی کروانا ضروری ہے۔ اس عمل سے خاندان کی تشکیل کا درست اور مستند ریکارڈ نادرا کے پاس محفوظ ہو جاتا ہے۔
نادرا حکام کا کہنا ہے کہ ازدواجی حیثیت کو اپ ڈیٹ کروانے سے شہریوں کو مستقبل میں کئی طرح کی قانونی اور انتظامی سہولیات حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ خاص طور پر بچوں کے ب فارم کے حصول، شناختی کارڈ بنوانے یا پاسپورٹ کے حصول کے وقت یہ ریکارڈ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ، درست ریکارڈ ہونے کی صورت میں شہری ضرورت پڑنے پر فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اور جانشینی سرٹیفکیٹ باآسانی حاصل کر سکتے ہیں۔ نادرا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ریکارڈ کی درستگی ہر شہری کی ذمہ داری ہے تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
شہریوں کی سہولت کے لیے نادرا نے دو طریقے متعارف کروائے ہیں۔ جو لوگ اپنی ازدواجی حیثیت اپ ڈیٹ کروانا چاہتے ہیں، وہ اپنے قریبی نادرا رجسٹریشن سینٹر پر جا کر یہ عمل مکمل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے 'پاک آئی ڈی' موبائل ایپ کے ذریعے بھی یہ اپ ڈیٹ ممکن ہے۔
نادرا کی جانب سے یہ اقدام ڈیٹا بیس کو شفاف اور جدید بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اہم معاملے میں سستی نہ برتیں اور اپنے کوائف کو ہر لحاظ سے مکمل اور درست رکھیں۔
واضح رہے کہ نادرا کا ڈیٹا بیس پاکستان میں شہریوں کی شناخت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ کسی بھی شہری کے کوائف میں تبدیلی یا ازدواجی حیثیت کا ریکارڈ اپ ڈیٹ نہ ہونے سے سرکاری امور اور دیگر دستاویزات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نادرا کے اس پیغام کا مقصد عوام میں آگاہی پیدا کرنا ہے تاکہ وہ بروقت اپنے کوائف درست کروا کر مستقبل کے ممکنہ مسائل سے بچ سکیں۔ ادارے کی جانب سے اس عمل کو آسان بنانے کے لیے آن لائن سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی سے بچنے کے لیے نادرا کی آفیشل ویب سائٹ یا ہیلپ لائن سے بھی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ اپنے کوائف کو اپ ڈیٹ رکھنا ایک ذمہ دار شہری ہونے کا تقاضا ہے۔
نادرا کے مطابق، درست ریکارڈ سے نہ صرف انفرادی سطح پر فائدہ ہوتا ہے بلکہ ملکی سطح پر مردم شماری اور دیگر اعداد و شمار کے درست اندراج میں بھی مدد ملتی ہے۔ اس لیے تمام شادی شدہ افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس عمل کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں۔
ادارے نے مزید کہا کہ اگر کسی شہری کو اپنے ریکارڈ میں تبدیلی کے حوالے سے کوئی دشواری پیش آئے تو وہ نادرا کے قریبی سینٹر پر موجود عملے سے رابطہ کر سکتا ہے۔ عملہ شہریوں کی رہنمائی کے لیے ہمہ وقت موجود ہے۔
نادرا کا یہ اقدام ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کے عین مطابق ہے، جس میں شہریوں کو گھر بیٹھے یا آسان طریقوں سے سرکاری سہولیات فراہم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ پاک آئی ڈی ایپ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
آخر میں، نادرا نے شہریوں سے دوبارہ گزارش کی ہے کہ وہ اپنی ازدواجی حیثیت کے درست اندراج کو یقینی بنائیں تاکہ انہیں کسی بھی قسم کی قانونی یا دفتری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ درست معلومات ہی درست خدمات کی ضمانت ہیں۔




اپنی رائے دیں