مواد پر جائیں
بدھ، 4 نومبر 2026 24 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
یورپ میں پروازوں اور بحری جہاز کو بم کی دھمکیاں، تمام الرٹ جھوٹے نکلےچیمپئنز لیگ: مانچسٹر یونائیٹڈ کی روما کے خلاف شاندار کم بیک فتحچیمپیئنز لیگ: بارسلونا کی ایستون ولا کے خلاف 0-3 سے شاندار کامیابینیویارک جائنٹس اور کارنر بیک گریگ نیوسم کے درمیان 46 ملین ڈالر کا معاہدہملیحہ علی نے آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ میں روسی حریف کو شکست دے دیامریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ملک بھر میں ایک ہزار الیکشن مانیٹرز تعیناتامریکی وسطی مدتی انتخابات، کانگریس میں اکثریت کا فیصلہ کن مرحلہمریم نواز کا چوہدری سالک حسین کو 5 ارب روپے کا ہتکِ عزت کا نوٹسبلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشت گرد ہلاک، ایک سپاہی شہیدامریکی وسطی مدتی انتخابات میں خلاء سے بھی ووٹ کاسٹ کیے گئےنیوزی لینڈ کے اوپنر ڈی ون کون وے بھارت کے خلاف پہلے ون ڈے سے باہرپی سی بی کا مرکزی کنٹریکٹ تنخواہوں کو ڈومیسٹک کرکٹ سے مشروط کرنے کا فیصلہڈسکہ میں شادی کی تقریب میں بھگدڑ کا واقعہ: اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹک ٹاکر ان سر محمود کو حفاظتی ضمانت دے دیامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رواں برس کے آخر میں اسرائیل کو امداد بند کرنے کا اعلانامریکا سال کے آخر میں اسرائیل کی سالانہ چار ارب ڈالر امداد بند کر دے گاامریکہ میں وسطی مدتی انتخابات، کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ آجسپین: دورانِ میچ گول کیپر سے تصادم کے بعد ٹینریف کا فٹبالر جاں بحقورلڈ ایتھلیٹکس ایوارڈز: جوش کیر اور سبسٹین سا وے مومنٹ آف دی ایئر کے لیے نامزدامریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کا معاہدہ فی الحال دور کی بات ہےمیل نیا ٹرمپ روس اور یوکرین کے نمائندوں کی میزبانی وائٹ ہاؤس میں کریں گی
صحت

یورپ میں ویسٹ نائل وائرس کا پھیلاؤ، ہلاکتوں کی تعداد 150 کے قریب پہنچ گئی

یورپی ممالک میں مچھروں سے پھیلنے والے وائرس کے کیسز میں ریکارڈ اضافہ، صحت کے اداروں نے تشویش کا اظہار کر دیا۔

یورپ بھر میں ویسٹ نائل وائرس کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے نتیجے میں رواں برس اب تک ہلاکتوں کی تعداد 150 کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یورپی ادارہ برائے انسداد امراض نے صورتحال کو سنگین قرار دیا ہے۔

یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی اور یورپی سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، سال 2026 کے آغاز سے اب تک براعظم کے 18 ممالک میں وائرس کے پھیلاؤ کی تصدیق ہو چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اب تک متاثرہ افراد کی کل تعداد 1855 تک جا پہنچی ہے، جن میں سے 141 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ ایک دہائی کے دوران ریکارڈ کیے گئے اوسط کیسز سے کہیں زیادہ ہے جو کہ تشویش کا باعث ہے۔

یورپی حکام کا کہنا ہے کہ ستمبر کے بعد سے اب تک 769 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ تاحال رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس صورتحال نے صحت عامہ کے اداروں کو الرٹ کر دیا ہے۔

یورپی یونین اور یورپی اکنامک ایریا میں کیسز کی مجموعی تعداد 1715 تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں غیر معمولی ہے اور وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار نے تمام سابقہ ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

متاثرہ ممالک میں اٹلی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں اب تک 748 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ یونان میں 445 اور فرانس میں 144 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جہاں انتظامیہ حفاظتی اقدامات کر رہی ہے۔

یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی سائنسی افسر گیوسی امورے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سال یورپ میں ویسٹ نائل وائرس کی سطح ریکارڈ بلندی پر ہے۔ انسانوں اور جانوروں میں اس کا پھیلاؤ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

ویسٹ نائل وائرس بنیادی طور پر مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مچھروں کی افزائش کو روکنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے ہی اس وائرس کے پھیلاؤ کو قابو میں لایا جا سکتا ہے۔

صحت کے عالمی اداروں نے یورپی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مچھروں سے بچاؤ کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ خاص طور پر کھڑے پانی کو ختم کرنا اور مچھر دانی کا استعمال اس وائرس سے بچاؤ میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں مچھر مار اسپرے اور آگاہی مہمات کا سلسلہ بھی تیز کر دیا گیا ہے۔ طبی ماہرین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ بخار یا علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر قریبی طبی مرکز سے رجوع کریں۔

یورپی یونین کے ممالک اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے باہمی تعاون بڑھا رہے ہیں۔ مختلف ممالک کے درمیان ڈیٹا کا تبادلہ کیا جا رہا ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کے نمونوں کو سمجھ کر بروقت تدارک کیا جا سکے۔

ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور درجہ حرارت میں اضافے کے باعث مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے یورپ جیسے خطوں میں بھی ایسے وائرس تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

اس موضوع پر مزید خبریں

صحت کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں