مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے عالمی بحری تجارت میں حائل رکاوٹوں نے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو بڑھا دیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر بحری جہازوں اور کارگو کی آمد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے ملکی بحری شعبے کو غیر معمولی کاروباری مواقع میسر آئے ہیں۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ کی جانب سے اگست 2026 میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2025-26 کے دوران بندرگاہ نے 55.483 ملین ٹن کارگو ہینڈل کیا اور 2.749 ملین ٹی ای یوز کا ہدف حاصل کیا، جو کہ کراچی پورٹ کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 2,115 بحری جہازوں کو خدمات فراہم کی گئیں۔
اس سے قبل مالی سال 2024-25 میں کراچی پورٹ نے 53.951 ملین ٹن کارگو اور 2.651 ملین ٹی ای یوز ہینڈل کیے تھے۔ اس طرح ایک سال کے دوران کارگو ہینڈلنگ میں تقریباً 2.8 فیصد اور کنٹینرز کی تعداد میں تقریباً 3.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو بندرگاہ کی بڑھتی ہوئی عملی استعداد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن نے بھی اس بدلتی ہوئی صورتِ حال سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں کمپنی کی مجموعی آمدنی 59.5 ارب روپے رہی، جو گزشتہ مالی سال کے 37.6 ارب روپے کے مقابلے میں تقریباً 58 فیصد زیادہ ہے۔
کارپوریشن کے مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق، شپنگ کے بنیادی کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی 33.7 ارب روپے سے بڑھ کر 50.6 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح کمپنی کا مجموعی منافع 11.2 ارب روپے سے بڑھ کر 21.5 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ خالص منافع 21.55 ارب روپے رہا۔
بندرگاہوں پر بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث مقامی سطح پر روزگار کے مواقع میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ جن مزدوروں کو ماضی میں بم شکل دس سے گیارہ دن کام ملتا تھا، اب وہ پورے تیس دن مصروف رہتے ہیں، جس سے ان کی ماہانہ آمدنی میں تین گنا تک اضافہ ہوا ہے اور مزید افرادی قوت کو بھی بھرتی کیا جا رہا ہے۔
وزارتِ بحری امور کے مطابق، پاکستان کو میری ٹائم سیکٹر میں مختلف منصوبوں کے لیے چھ سے نو ارب ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری کی ٹھوس تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ ان منصوبوں میں ملٹی پرپز کارگو ٹرمینلز، کنٹینر ٹرمینلز، ایل این جی اور تیل کے ٹرمینلز کے ساتھ ساتھ اسٹیل اور میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اصل کامیابی ان تجاویز کے معاہدوں، تعمیراتی سرگرمیوں اور عملی منصوبوں میں تبدیل ہونے میں مضمر ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان کی بندرگاہوں کی صلاحیت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
عالمی شپنگ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی کمپنیوں کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے صرف جغرافیائی قربت کافی نہیں ہے۔ اس کے لیے بندرگاہوں پر جدید مشینری، بڑے جہازوں کو سنبھالنے کی صلاحیت، تیز رفتار کسٹمز کلیئرنس، جدید گوداموں اور بہتر زمینی رابطوں کا ہونا بھی ناگزیر ہے۔
اگر جہاز پاکستان پہنچ جائیں لیکن سامان بروقت اپنی منزل تک منتقل نہ ہو سکے تو عالمی تجارتی کمپنیاں دوبارہ متبادل بندرگاہوں کا انتخاب کر سکتی ہیں۔ اس لیے انفراسٹرکچر میں بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گوادر پورٹ کے حوالے سے بھی توقعات وابستہ ہیں کہ اسے خطے کے تجارتی، صنعتی اور توانائی کی ترسیل کے مرکز کے طور پر ترقی دے کر پاکستان کو وسطی ایشیا، چین اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک اہم تجارتی پل بنایا جا سکتا ہے۔
فی الحال پاکستانی بندرگاہیں اپنی عملی استعداد کا ثبوت دے رہی ہیں، تاہم طویل مدتی فوائد کے حصول کے لیے کارگو کمپنیوں کے ساتھ کم منافع کے عوض طویل المعیاد معاہدے کرنا سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں امن بحال ہوتا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری تجارت معمول پر آجاتی ہے تو جہازوں کا ایک بڑا حصہ دوبارہ اپنے روایتی راستوں اور خلیجی بندرگاہوں کی طرف منتقل ہو سکتا ہے۔
تاہم، جب تک آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں برقرار ہیں، تب تک پاکستانی بندرگاہوں کا منافع کمانا یقینی دکھائی دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جس سے فائدہ اٹھا کر پاکستان اپنی معاشی سمت کو بہتر بنا سکتا ہے۔




اپنی رائے دیں