گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے درمیان اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات ہوئی ہے۔ اس ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور خیبرپختونخوا کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
گورنر آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ملاقات کا بنیادی مقصد وفاق اور صوبہ خیبرپختونخوا کے درمیان باہمی روابط کو مزید مستحکم کرنا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وفاق اور صوبے کے مابین بہتر روابط وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
ملاقات کے دوران خیبرپختونخوا کی موجودہ سیاسی اور انتظامی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر قومی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے باہمی مشاورت کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون کا تسلسل ہی مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
خیبرپختونخوا میں پائیدار امن کے قیام کے حوالے سے بھی اہم گفتگو کی گئی۔ گورنر فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اولین ترجیح ہے۔
صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کی سہولت کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھی جائیں گی۔
ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی سطح پر مربوط حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے اس بات پر توجہ دلائی کہ صوبے کے انتظامی امور میں بہتری لانے کے لیے وفاقی تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اس موقع پر کہا کہ وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ مل کر قومی ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
ملاقات میں شریک رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام تر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوامی مفاد کو مقدم رکھا جائے گا۔
مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے بھی دونوں رہنماؤں نے باہمی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک میں سیاسی استحکام اور صوبائی خود مختاری کے امور پر بحث جاری ہے۔
گورنر آفس کے مطابق، اس طرح کی ملاقاتیں وفاق اور صوبوں کے درمیان خلیج کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
اس ملاقات کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر رابطوں میں مزید تیزی آئے گی۔





اپنی رائے دیں