امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کے مینڈیٹ پر قبضہ کر کے نہ صرف جماعت اسلامی بلکہ شہر کے ساڑھے تین کروڑ عوام کا حق مارا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے کراچی پر ایسے لوگوں کو مسلط کر دیا ہے جو کرپشن اور لوٹ مار کے سوا کچھ نہیں جانتے۔
یہ بات انہوں نے کراچی میں ٹی ایم سی ماڈل کالونی کے تحت رفاہ عام چوک، ملیر ہالٹ میں ماڈل محلہ اور سڑکوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان، امیر جماعت اسلامی ضلع ایئرپورٹ محمد اشرف، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق اور ٹاؤن چیئرمین ماڈل کالونی ظفر احمد نے بھی خطاب کیا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی کے باوجود جماعت اسلامی کے ٹاؤنز نے اپنی مدد آپ کے تحت ترقیاتی کاموں کے راستے نکالے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گلیوں کی تعمیر، پارکوں کی بحالی، سڑکوں کی صفائی اور کچرا کنڈیوں کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کے دوران جن علاقوں کا دورہ کیا تھا وہاں مٹی اور ٹوٹے راستے تھے، لیکن اب وہاں پیور بلاکس لگائے جا رہے ہیں اور صفائی کا نظام بہتر ہوا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ کراچی ملکی معیشت میں تقریباً نصف حصہ ڈالتا ہے لیکن سیاسی جماعتوں اور انہیں مسلط کرنے والوں نے شہر کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے عوام چاہتے تھے کہ جماعت اسلامی کا میئر ہو کیونکہ انہیں یقین تھا کہ جماعت اسلامی اختیارات نہ ہونے کے باوجود شہر کی حالت بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔
ان کے مطابق جماعت اسلامی نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ شہر کو اختیارات دلانے کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے، تاہم اختیارات نہ ملنے کی صورت میں بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھیں گے۔
تعلیمی شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز میں موجود تقریباً ڈیڑھ سو اسکولوں میں سے 73 کی تعمیر و مرمت اور تزئین و آرائش کر کے انہیں بہتر بنایا گیا ہے۔
انہوں نے ناظم آباد کے ایک اسکول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی عمارت مخدوش تھی اور بچے درختوں کے نیچے بیٹھنے پر مجبور تھے، اب وہاں لیبارٹری اور کمپیوٹر لیب قائم کر دی گئی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے تجویز دی کہ اگر حکومت کراچی کے ساڑھے تین ہزار سرکاری اسکول ٹاؤنز کے حوالے کر دے اور مناسب وسائل فراہم کرے تو تعلیمی صورت حال میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے سندھ میں تعلیم کے 601 ارب روپے کے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ہزاروں اسکول اور کالجز ہونے کے باوجود تعلیمی نظام انتہائی خراب ہے۔
انہوں نے مثال دی کہ گھوٹکی کے ایک اسکول میں 23 بچوں کے لیے 49 اساتذہ تعینات ہیں، جبکہ بہت سے اسکولوں میں اساتذہ موجود ہونے کے باوجود حاضر نہیں ہوتے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی اقتدار میں نہ ہونے کے باوجود عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہے اور اپنے حصے کا عملی کام بھی کرتی ہے۔
اسی مقصد کے تحت نوجوانوں کے لیے شروع کیے گئے 'بنو قابل' پروگرام کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس کے ذریعے نوجوانوں کو مفت آئی ٹی کورسز کروائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں جن کورسز کے لیے بھاری فیس وصول کی جاتی ہے، جماعت اسلامی وہ کورسز سو فیصد مفت فراہم کر رہی ہے۔
اس پروگرام کا دائرہ کار اب پورے پاکستان تک پھیلا دیا گیا ہے اور اب تک 16 لاکھ نوجوانوں، لڑکوں، لڑکیوں اور گھریلو خواتین نے اس کے لیے رجسٹریشن کروائی ہے۔





اپنی رائے دیں